’پولیس افسران پر مکمل اعتماد ہے‘

سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مزرا نے ان پولیس افسران کا دفاع کیا ہے جنہیں حکومت کی حلیف جماعت ایم کیو ایم اپنے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ آئی جی سندھ اور کراچی پولیس کے سربراہ نے وزیر اعظم کو بریفنگ کے دوران کراچی میں فسادات کا ذمہ دار ایم کیو ایم ٹہرایا ہے اور اگر ان پولیس افسران کو ان کے عہدوں سے علیحدہ نہ کیا گیا تو ا<link type="page"><caption> یم کیو ایم انتہائی قدم اٹھا سکتی ہے۔ </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090501_mqm_threat_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
سندھ کے وزیر داخلہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کو کوئی اعتراض ہے تو انہیں بیٹھ کا مسئلہ حل کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس افسران کی کارکردگی سے مطمعن ہیں۔
ڈاکٹر مرزا نے کہا کہ پولیس افسران نے فسادات میں مرنے والوں کے لسانی تعلق کو ظاہر کیا ہے جو ان کا فرض بنتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کو پولیس کی رپورٹ پر کوئی اعتراض تھا تو وہ وزیر اعظم کے سامنے اپنے اعتراضات اٹھا سکتے ہیں لیکن انہوں نے وہاں کوئی ایسا تاثر نہیں دیا کہ وہ ناراض ہیں۔
ّوزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ پولیس کے علاوہ اور بھی ادارے تھے جنہوں نے کراچی فسادات کے بارے میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا ریجنرز کے ڈائریکٹر جنرل نے جو ایک حاضر سروس جنرل ہیں، بھی اپنی رپورٹ پیش کی جو کافی جارحانہ تھی لیکن الزام تراشیاں پولیس پر کی جا رہی ہیں جو ان کے خیال میں نامناسب ہیں۔
ڈاکٹرذوالفقار مزرا نے کہا کہ اگر وہیں ان رپورٹس کو رد کیا جاتا اور ان افسران کو ’شٹ اپ کال‘ دی جاتی تو معاملات حل ہو سکتے تھے۔
ڈاکٹر ذوالفقار مزرا نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم ان کو قائل کر سکتی ہے کہ پولیس افسران نے زیادتی کی ہے تو وہ ان کے خلاف ایکشن لینےکے لیے تیار ہیں لیکن اپنے اختلافات کا اظہار کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ ’مہذب ملکوں میں مناسب نہیں ہے۔‘


















