سولہ طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ جمعہ کی شب سپنگل تنگی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے حملے پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سولہ شدت پسند کو ہلاک کردیا ہے جبکہ اس کارروائی دو سکیورٹی اہلکار بھی مارےگئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مہمند ایجنسی کے علاقے چکدرہ بازار سے شدت پسندوں نے لیویز کے ایک اہلکار کو اغوا کر لیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نےکانجو سے پانچ شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا جس میں تین افغان باشندے شامل ہیں اور یہ شدت پسند علاقے میں بارودی سُرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں سکیورٹی فورسز نے ایک مشکوک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو اُس میں موجود شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پرفائرنگ کردی تاہم جوابی فائرنگ کے بعد شدت پسند وہاں سے فرار ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گاڑی کی تلاشی کے دوران بارہ فوجی یونیفارم برآمد ہوئیں جو کہ شدت پسند سکیورٹی فورسز کی آڑ میں دہشت گردی میں استعمال کر سکتے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سوات میں شدت پسند امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے شہریوں اور سول انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ شدت پسندوں نے جمعہ کے روز خوازہ خیلہ کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
دیر اور بونیر میں جاری آپریشن کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ڈگر اور امبیلا کے بڑے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور سکیورٹی فورسز کا ان علاقوں میں آپس میں زمینی رابطہ ہوگیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مردان روڈ کو مکمل طور پر محفوظ بنالیا ہے اور جلد ہی اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا پشاور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار عبدالحی کاکڑ نے بتایا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع بونیر سے اطلاعات ہیں کہ علاقے میں جاری فوجی کارروائی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان شہریوں کو بونیر کےمختلف علاقوں میں ہلاک کیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو نقل مکانی کے وقت نشانہ بنے ہیں۔
بونیر کے علاقے سواڑئی کے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے جمعہ کو بابا جی کنڈاوئی میں نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں چھ افراد ہلاک ہوگئے۔
اسماعیل نامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے تین افراد کی لاشوں کو وہاں سے نکال کر سپردِ خاک کر دیا ہے لیکن کرفیو کے نفاذ اور ممکنہ حملے کے خوف سے تین لاشیں اب بھی وہاں پڑی ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ ناوگئی کے قریب واقع ریگا کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز ان کے گاؤں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شیلنگ کی تھی جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوگئے۔ ناوگئی میں بھی ایک مکان نشانہ بنا ہے جس میں بھی باپ زخمی اور ایک بچہ ہلاک ہوگیا ہے۔
بونیر کی سرحد پرواقع ضلع مردان کے یونین ناظم ایوب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گاؤں میں جمعہ کو توپ کا گولہ گرا تھا جس میں ایک بچہ ہلاک ہوا تھا ان کے بقول بونیر سے نقل مکانی کرنے والی دو خواتین جنہوں نے کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا سفر کی مشقت برداشت نہ کرتے ہوئے جان بحق ہوگئی ہیں۔
اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کےترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے شہریوں کی ہلاکتوں سے لاعلمی کا اظہار کیا البتہ کہا کہ کارروائی کے دوران احتیاط سے کام لیا گیا ہے لیکن پھر بھی ایسی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کوخارج از امکان نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع مردان کو امبیلا کے راستے صدر مقام ڈگر سے ملانے والی سڑک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اس وقت سڑک کو دھماکہ خیر مواد سے صاف کیا جا رہا ہے۔ انہوں توقع ظاہر کی کہ کل تک کرفیو میں نرمی کرکے سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
بونیر میں فوجی کارروائی کے دوران حکومت نے ایک حکمت عملی کے تحت پی ٹی سی ایل اور موبائل فون نیٹ ورک کو معطل کر دیا ہے جس کی وجہ سے باہر کی دنیا کو حالات کے بارے میں معلومات تاخیر سے پہنچ رہی ہیں۔
ذرائع ابلاغ کو بونیر میں جاری کارروائی کے حوالے سےمعلومات حاصل کرنے میں سرکاری ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
پانچ لاکھ آبادی کے اس ضلع سے کرفیو کے نفاذ کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں پیدل اورگاڑیوں میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرتے ہوئے مردان اور صوابی جا رہے ہیں۔
صوابی نقل مکانی کرنے والے ایک شخص حفیظ الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں کرفیو نافذ ہے اور لوگ آپریشن کے دوران خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے بچوں اور خواتین کو مشکل حالات میں بونیر سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
واڑی بازار میں موجود ایک شخص رضا خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کرفیو نافذ ہے اور وہ سودا سلف لینے کے لیے بازار آ رہے تھے کہ راستے میں سکیورٹی فورسز نے ان پر فائرنگ کی تاہم وہ محفوظ رہے اور مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بازار پہنچے ہیں۔ ان کے بقول بازار بند ہے اور خوردنوش کی اشیاء دستیاب نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ فوج نے بونیر سے طالبان کا صفایا کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کی ہے جس میں دعوی کے مطابق پچپن سے زائد طالبان کو مارا گیا ہے لیکن مقامی لوگ ان دعووں کی صحت پر شکوک کا اظہار کررہے ہیں۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے پیر بابا اور سلطان وس گاؤں طالبان کا گڑھ ہے مگر سکیورٹی فورسز نے وہاں پرابھی تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے۔






















