مہمند ایجنسی میں طالبان کا حملہ

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو لاپتہ ہیں۔ اس حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں شدت پسندوں کو بھی جانی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو صبح پانچ بجے کے قریب مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی سے کوئی تیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل خوئیزئی ادئیزئی کے علاقے سپینکئی تنگئی میں مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک دو لاپتہ اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں کو مقامی طالبان اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ طالبان کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں توپخانے کا بھی استمعال کیاگیا ہے۔ لیکن ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ شدت پسندوں کو کتنا نقصان ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کے ذرائع سے ان کو معلوم ہوا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے طالبان کو جانی نقصان پہنچا ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ان کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپینکئی تنگئی کے علاقے میں گولہ باری سے طالبان کے چند ٹھکانے بھی تباہ ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ دو مہینے پہلے سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان باجوڑ ایجنسی میں ایک امن معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد مہمند ایجنسی میں ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔گزشتہ دو مہینوں سے سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔


















