عالمی دن پر مزدوروں کی ہلاکتیں

قلات علاقے میں واٹر سپلائی اسکیم پر کام کرنے والے غیر مقامی مزدوروں پر  حملے کے نتیجے میں دو مزدور جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے
،تصویر کا کیپشنقلات علاقے میں واٹر سپلائی اسکیم پر کام کرنے والے غیر مقامی مزدوروں پر حملے کے نتیجے میں دو مزدور جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

قلات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دومزدوروں کی لاشیں سنیچر کو پنجاب کے شہرصادق آباد روانہ کردی گئی ہیں۔ انہیں جمعہ کی رات نامعلوم مسلح افراد نے ایک حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ یہ ہلاکتیں اس دن ہوئیں جب پاکستان سمیت پوری دنیا میں مزدورں کاعالمی دن منایا جارہا تھا۔

بلوچستان کے قلات علاقے میں کل رات واٹر سپلائی اسکیم پر کام کرنے والے غیر مقامی مزدوروں پر دستی بم اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کے نتیجے میں دو مزدور جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں کوفوری طور پرکوئٹہ منتقل کردیاگیا ہے۔

قلات پولیس کے مطابق قلات میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر پس شہر کے مقام پر واٹر سپلائی کی اسکیم پر کام کرنے والے مزدوروں پر تین موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے دستی بم پھینکااور خود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو مزدوردلبر خان اور صفیان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔ان کی لاشیں آج صادق آبادروانہ کردی گئی ہیں جبکہ تین مزدور محمد عظیم، عرفان اور شوکت شدید زخمی ہو ئے تھے۔

حملے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ اطلاع ملنے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قلات پہنچایاجہاں سے انہیں کوئٹہ منتقل کردیاگیا ہے ۔

جبکہ علاقے کو گھیرے میں لیکر ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے لیکن ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق و زخمی ہونے والے پانچوں افراد کا تعلق پنجاب کے علاقے صادق آباد سے تھا جوقلات میں واٹرسپلائی اسکیم پردوہفتوں سے کام کررہے تھے۔

واضع رہے کہ اس واقعہ سے قبل بھی خضدار، نوشکی اور کوئٹہ میں غیرمقامی مزدوروں اور دوسرے لوگوں پر اس طرح کے حملے ہوئے ہیں جسکی ہمیشہ ذمہ داری بلوچ لیبریشن آرمی نے قبول کی ہے اورخبردارکیاہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ بلوچستان سے نکل جائیں بصورت دیگر سب کوٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایاجائے گا۔

اس خوف کی وجہ سے نہ صرف اندرون بلوچستان بہت سے لوگ ہجرت کرکے پنجاب منتقل ہوچکے ہیں جبکہ کوئٹہ میں بھی بہت سے کاروباری لوگ اپناکاروبار چھوڑ کراور اپناگھر بار کم قیمت پرفروخت کر نے پرمجبورہیں۔

اگرچہ صوبائی حکومت کی جانب سے ان واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے دعوئے جاری ہیں مگراس کے باوجود غیرمقامی لوگوں کی ٹارگٹ کلنک کاسلسلہ رکا نہیں ہے جس سے نہ صرف بلوچستان میں کئی پشتوں سے رہنے والے غیربلوچستانی پریشان ہیں بلکہ عام لوگوں میں بھی خوف وہراس زیادہ ہے۔