مینگورہ:دو سکیورٹی اہلکار ہلاک، شہر میں رات کا کرفیو

سواتی طالبان
،تصویر کا کیپشنسوات میں طالبان نے گشت شروع کر دیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں دو سکیورٹی اہلکاروں کے گلے کاٹنے اور طالبان کی طرف سے سڑکوں پر مسلح گشت شروع کرنے کے واقعات کے بعد صدر مقام مینگورہ میں رات کے وقت کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ طالبان نے سکیورٹی اہلکاروں کی قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

سوات کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اتوار کو خوازہ خیلہ کے مقام پر دو سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گلہ کاٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ دونوں اہلکار چند دن چھٹی گزارنے گھر جارہے تھے کے تحصیل خوازہ خیلہ کی حدود سے انہیں اغوا کرلیا گیا ۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق فوج اور فرنٹیئر کور سے بتایا جاتا ہے۔

ادھر سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ چند دن قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کے دو ساتھیوں کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے ان کو مبینہ طورپر ہلاک کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سکیورٹی اہلکار ان کے ساتھیوں کو نشانہ بناتے رہیں گے وہ بھی ردعمل میں کارروائیاں کرتے رہیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سوات امن معاہدہ برقرار ہے۔

دریں اثناء اتوار کی شام مینگورہ شہر میں کئی مقامات پر طالبان کو گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا جس سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیاہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے سڑکوں پر نکل آنے سے شہر میں تمام بازار اور تجارتی مراکز اچانک بند ہوگئے اور لوگ گھروں کی طرف بھاگنے لگے۔

ادھر سوات میں آج ہونے والے واقعات کے بعد حکومت نے مینگورہ شہر میں رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔

سوات میڈیا سنٹر سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر میں رات نو بجے سے لیکر صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔ تاہم بیان میں کرفیو کے نفاذ کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

سوات میں اس سال فروری میں امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

سوات میں یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب سنیچر کی شام ہی سرحد کی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں دارالقضاء یعنی ہائی کورٹ لیول کی بینچ قائم کرنے کا نوٹیفکیش جاری کر کیا تھا۔