ڈرون حملے: ’فائدے کی بجائے نقصان‘

عراق میں امریکی فوجی حکمت عملی میں معاونت فراہم کرنے والے ایک اعلٰی مشیر ڈیوڈ کلکولین نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاسوس طیاروں کے حملوں سے نہ صرف لوگوں میں اشتعال پھیل رہا ہے بلکہ پاکستانی حکومت کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
آسٹریلیا کے سابق فوجی افسر ڈیوڈ کلکولین عراق میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل پیٹریاس کے مشیر رہ چکے ہیں اور انہوں نے جنرل پیٹریاس کو عراق میں انسداد دہشت گردی کی کامیاب جنگی حکمت عملی بنانے میں معاونت فراہم کر تھی ۔
امریکہ کے اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کے ایک رکن نے جب کلکولین سے دریافت کیا کہ پاکستان کے بارے میں امریکہ کو کیا کرنا چاہیے تو اس پر انہوں نے کہا ’ہمیں ڈرون حملے بند کرنے چاہیں‘۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور اس کے پاکستانی حامیوں کو امریکہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے گذشتہ حکومت کی طرح جاسوس طیاروں کے حلموں کو جاری رکھا ہے بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ رواں سال کے صرف پہلے چار ماہ کے دوران سی آئی اے نے سولہ ڈرون حملے کیے ہیں جبکہ گزشتہ سال کے دوران چھتیس حملے کیے گئے تھے۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق براک اوباما کے دور حکومت میں ہوئے ڈرون حملوں میں ایک سو اکسٹھ افراد ہوئے ہیں اور ان میں عام لوگوں کے ہلاک ہونے کی تعداد کے بارے میں اندازہ لگانا نا ممکن ہے۔
ڈیوڈ کے مطابق ڈرون حملوں کا الٹا نقصان ہو رہا ہے۔ ڈیوڈ کو جاسوس طیاروں کے حملوں میں امریکہ کے ساتھ برسرپیکار طالبان اور القاعدہ کے کارکنوں کے ہلاک ہونے پر کوئی اختلافات نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے دشمنوں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کمیٹی برائے آرمڈ سروسز میں کہا ’مجھے معلوم ہے کہ جاسوس طیاروں کے حملوں سے القاعدہ کی قیادت کو نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں کی بدولت سنہ دو ہزار چھ سے لیکر اب تک ڈرون حملوں میں القائدہ کے چودہ رہنما ہلاک ہوئے لیکن اس عرصے کے دوران قبائلی علاقوں میں سات سو عام پاکستانی بھی ہلاک ہوئے۔ڈرون حملے پاکستانی عوام میں نہایت غیر مقبول ہیں۔ مقامی آبادی میں اشتعال پھیلا ہے جس کی وجہ سے عوام شدت پسندوں کے ساتھ جڑ رہے ہیں اور وہ انہیں شدت پسندی کی طرف راغب کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار کی وجہ سے پاکستان حکومت کا اپنے لوگوں پر سے کنٹرول ختم ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ خفیہ معاملات کے ماہرین کے مطابق زمینی کارروائی میں بہت زیادہ خطرات ہیں جبکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے وقت بہت درکار ہو گا۔
ڈیوڈ کلکولین نے کہا کہ ابھی تک یہ واضع نہیں ہے کہ اوباما انتظامیہ ان کی رائے پر عمل کرتی ہے۔






















