حافظ سعید کیس، لارجر بینچ کی سفارش

حافظ سعید
،تصویر کا کیپشنحافظ محمد سعید کو بارہ دسمبر دو ہزار آٹھ میں نظر بند کیا گیا تھا
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم جماعتہ الدعوۃ کےسربراہ حافظ سعید کی نظر بندی کیس کی سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔

سوموار کے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے کالعدم تنظیم جماعتہ الدعوۃ کے رہنماؤں کا نظر بندی کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے اور کہا ہے کہ اس مقدمے میں بعض ایسے نکات اور آئینی پیچدگیاں موجود ہیں جن کا فیصلہ لارجر بینچ کو ہی کرنا چاہیے۔

کالعدم تنظیم جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید سمیت چھ رہنماؤں کو بارہ دسمبر سنہ دوہزار آٹھ میں نظر بند کردیا گیا تھا۔

بعد میں ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل نظرثانی بورڈ نے حافظ سعید سمیت چار رہنماؤں کی نظر بندی میں توسیع کردی تھی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یاسن بلوچ اور قاضی کاشف نیاز رہا ہوگئے تھے جبکہ حافظ سعید کے علاوہ مولانا امیر حمزہ، مفتی عبدالرحمان رحمانی اور کرنل (ر) نذیر احمدکی نظر بندی برقرار رہی۔

ان افراد نے لاہور ہائی کورٹ میں حبسِ بے جا کی رٹ دائر کر رکھی ہے۔ پیر کو حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کے وکیل اے کے ڈوگر نے عدالت میں دلائل دیے کہ نظر ثانی بورڈ کی حثیت انتظامی ہے اسے کے محدود اختیارات ہیں اور وہ از خود نظر بندی میں توسیع نہیں کرسکتا۔

انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اس فیصلے کے وقت ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بھی ہائی کورٹ کے ججوں کے ہمراہ بیٹھے تھے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رضا فاروق اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نوید عنایت ملک نے جوابی دلائل دیئے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظرثانی بورڈ ہائی کورٹ کے ہی تین ججوں پر مشتمل تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے اب ہائی کورٹ کے مجوزہ لارجر بینچ نے اس بات کا فیصلہ بھی کرنا ہے کہ ہائی کورٹ کے تین ججوں کے فیصلے کے باوجود حبس بے جا کی رٹ دائر کی جاسکتی ہے یا نہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بعد میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے تحریری جواب میں یہ وضاحت کرچکی ہے کہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی پابندیوں کے نتیجے میں نظر بند کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حافظ محمد سعید کالعدم لشکر طیبہ کے بانی امیر تھے لیکن اس پر پاکستان میں پابندی لگنے سے پہلے ہی انہوں نے اس تنظم کو چھوڑ دیا تھا اور صرف جماعتہ الدعوۃ کی سربراہی سنبھال رکھی تھی۔

بھارتی حکومت اپنے زیر انتظام کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والی کئی پرتشدد کارروائیوں کا الزام لشکر طیبہ پر عائد کرتی ہے۔

حافظ محمد سعید کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل ہے جو ہندوستان کو پاکستان سے مطلوب ہیں اور بھارت یہ فہرست ماضی میں حکومت پاکستان کے حوالے کرچکا ہے۔