پولیس اہلکاروں کے لیے عمرہ، مالی امداد

پولیس
،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکاروں کوعمرے کی ادائیگی کے لیئے پچپن ہزار ادا کیا گیا ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سرحد پولیس نے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں ذہنی دباؤ یا مالی نقصانات برداشت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے پہلی مرتبہ عمرہ اور مالی امداد کی فراہمی کا آغاز کیا ہے۔

سوموار کے روز اس بابت پشاور میں ہوئی ایک تقریب میں تیرہ پولیس اہلکاروں کو نقد رقوم کی ادائیگی کی گئی ہے۔ خیال ہے کہ اس امداد سے سرحد پولیس میں شدت پسندی سے بری طرح متاثر مورال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

جن پولیس اہلکاروں کا یہ امداد فراہم کی گئی ان میں کانسٹیبل کے عہدے سے لے کر سب انسپکٹر تک کے افسران شامل ہیں۔ ان کا تعلق سوات، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک اور پشاور کے اضلاع سے ہے۔

انہیں عمرہ کے لیئے پچپن ہزار جبکہ مکانات کی تعمیر نو کے لیئے پچاس ہزار کی نقد رقم ادا کی گئی ہے۔ ان میں یہ امداد ایڈیشنل آئی جی پی آپریشن عبدالطیف خان گنڈاپور نے تقسیم کی جس کا مقصد خطرناک ماحول میں شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں انتہائی ذہنی اور جسمانی کرب سے گزرنا اور دہشت گردی کی وجہ سے مکانات کو نقصان برداشت کرنا شامل ہیں۔

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشن عبدالطیف خان گنڈاپور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرحد پولیس کی قربانیوں کی مثال نہیں ملتی اور قوم ان پر فخر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید پولیس اہلکار بھی ان کی خدمات کے صلے میں عمرے کے لیئے بھیجے جائیں گے۔

واضع رہے کہ شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع خصوصًا سوات میں گزشتہ چند برسوں میں پولیس کو شدید جانی و مالی نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ کئی پولیس اہلکار زندہ بچے ہیں لیکن ذہنی طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ادھر آئی جی سرحد ملک نویدنے کہا ہے کہ سرحد پولیس عسکریت پسندوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پولیس کو مزید مستعدی اور بہادری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملک نوید نے کہا کہ سرحد پولیس کوبہتر تربیت کے لیے اسلحے کی ضرورت ہے اور پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کیا جائے گا اور حفاظتی جیکٹس بھی فراہم کی جائیں گی ۔