کراچی ہنگامے: کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام کراچی میں مبینہ طور پر ایم کیو ایم کی جانب سے پشتون شہریوں کے قتل اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف پیر کے روز کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔
ہڑتال کے موقع پر کوئٹہ شہر اور مضافات میں تمام دکانیں، کاروباری مراکز اور ہوٹل بند ہیں تاہم تمام تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور بینک کھلے ہیں۔ اس موقع پر صوبائی حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور ابھی تک شہرکے کسی حصے سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
ہڑتال کے موقع پر انجمن تاجران اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے الگ الگ جلوس نکالے جو شہر کے قندہاری بازار جناح روڈ سے ہوتے ہوئے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہروں میں تبدیل ہو ئے۔
اس موقع پر مظاہرین نے کراچی میں پشتون کے قتل اور ان کی املاک کو نذر آتش کرنے پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائدین اورسندھ حکومت میں شامل پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف نعرہ بازی کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وکلاء رہنماء عبدالغنی کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی میں ایک سازش کے تحت گزشتہ کچھ دنوں سے پشتون آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم کوفوری طور پرسندھ حکومت سے علیحدہ کیا جائے اور ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سمندر خان کاسی ایڈووکیٹ نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم ایک منصوبے کے تحت کراچی پر قبضہ کرنے کے لیے کراچی سے پشتون، سندھیوں، پنجابیوں اور بلوچوں کو بےدخل کرنے کے لیے اس طرح کی ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے تاہم وہ اس غلط فہمی نہ رہے کہ یہ تمام اقوام کراچی چھوڑ دیں گے۔
بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے رہنماء طاہر خٹک ایڈووکیٹ نے کہاکہ پاکستان میں جہاں بھی ظلم ہوا ہے بلوچستان کے وکلاء نے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی قوم کے خلاف نہیں ہیں مگر کسی کو پشتونوں کی نسل کشی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم پشتونوں کوکبھی طالبان کے نام پر اور کبھی دہشت گردی کے نام پر قتل کررہی ہے۔
دوسری جانب مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تاجروں کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں پشتونوں اور ان کے کاروبار کو تحفظ دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















