کشمیر: برفانی تودے سے بارہ ہلاک

علاقے کے انسپکڑ جنرل پولیس جاوید نور نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں کم از کم چوبیس مرد برفانی تودے کے نیچے دب گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنعلاقے کے انسپکڑ جنرل پولیس جاوید نور نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں کم از کم چوبیس مرد برفانی تودے کے نیچے دب گئے تھے۔
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ وادی نیلم میں متازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے قریب برفانی تودے کے زد میں آکر بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ان کے کہنے کے مطابق اتنی ہی تعداد میں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان کی تلاش کے لئے امدادی کام جارہی ہے۔

یہ واقعہ پیر کی رات کو مظفرآباد کے شمال مشرق میں واقع وادی نیلم میں لائن آف کنڑول کے قریب گہل اشکوٹ علاقے میں پیش آیا۔

کشمیر کے اس علاقے کے انسپکڑ جنرل پولیس جاوید نور نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں کم از کم چوبیس مرد برفانی تودے کے نیچے دب گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب تک بارہ افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ دیگر دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ امدادی کام رات بھر جاری رہا لیکن اندھیرے کے باعث اس میں دقت پیش آئی۔

وادی نیلم کے ڈپٹی کمشنر عطا اللہ عطا کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے منگل کی صبح اپنے طور پر امدادی کام کا آغاز کیا تھا اور پولیس اور فوج وہاں بعد میں پہنچی اور لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی اطلاع اس لیے تاخیر سے ملی کہ یہ علاقہ دور دراز ہونے کے ساتھ ساتھ دشوار گذار بھی ہے اور وہاں کوئی سڑک نہیں جاتی جبکہ علاقے میں ٹیلیفون کی سہولت بھی نہیں ہے۔

لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا اتنی تعداد میں یہ افراد اس علاقے میں کیا کررہے تھے۔

واضع رہے کہ وادی نیلم میں فروری سن دو ہزار پانچ میں برفانی تودے کے باعث چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں تیس سے زیادہ لوگ ایک ہی گاؤں میں ہلاک ہوئے تھے۔