نقل مکانی کا حکم واپس

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں ضلعی رابطہ افسر خوشحال خان کا کہنا ہے کہ مینگورہ کے نواحی علاقوں رحیم آباد، قمبر، امان کوٹ اور مکان باغ سے شہریوں کو نقل مکانی کرکے درگئی جانے کا جو حکم دیا گیا تھا وہ واپس لے گیا ہے۔
اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں طالبان کی طرف سے بھاری اسلحہ استعمال کرنے کا خدشہ تھا تاہم اب خطرہ ٹل جانے کی صورت میں حکم واپس لے لیا گیا ہے۔
تاہم سوات میں موٹر سائیکل چلانے پر بھی پابندی برقرار ہے۔
ضلع کے مختلف مقامات پر طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایف سی اہلکار سمیت سات شہری ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ضلعی صدر مقام مینگورہ میں واقع رحیم آباد پولیس اسٹیشن کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے ضلع بھر میں غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نفاذ کر دیا ہے۔
مینگورہ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر وہاں قائم ایک یتیم خانے 'خپل کور‘ کے ڈائریکٹر محمد علی نے اپیل کی ہے کہ یتیم خانے میں مقیم تقریباً ڈھائی سو بچوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے صرف چار کمروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ 'خپل کور‘ فوجی مرکز سرکٹ ہاؤس کے قریب ہی واقع ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مینگورہ میں پیر کی شام سے سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپیں پوری رات جاری رہیں اور دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق فائرنگ اور مارٹرکےگولوں کے مکانات پر گرنے کے نتیجے میں سات شہری ہلاک اور پندرہ کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مینگورہ کے نواح میں واقع نوی کلی میں ایک شخص کے مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔
ادھر طالبان نے گرڈ سٹیشن پر حملہ کرکے ایف سی کے ایک اہلکار کو ہلاک کردیا ہے۔ گرڈ سٹیشن کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ گرڈ سٹیشن کے قریب میونسپل کارپوریشن کے ایک الیکٹریشن کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کردیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق امان کوٹ میں کرفیو کی خلاف ورزی پر ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ نشاط چوک، گلکدہ اور خوازہ خیلہ کے علاقے چمکلئی میں بھی مختف واقعات میں تین افراد کو قتل کردیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ پیر کی رات طالبان نے مینگورہ کے رحیم آباد پولیس سٹیشن پر قبضہ کرکے اس کی عمارت کو بارود سے تباہ کردیا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اب مینگورہ سے جزوی طور پسپا ہوکر اپنے گڑھ قمبر اور دیگر مضافاتی علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔
مینگورہ میں کل رات غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو کا نفاذ کیا گیا تھا اور مقامی انتظامیہ نے انٹرمیڈیٹ کےجاری امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چھتوں پر نہ چڑھیں اور گاڑی میں صرف ایک شخص سفر نہ کرے۔
سوات میں امن معاہدے کے بعد تشدد کا سلسلہ رک گیا تھا لیکن اب ایک بار پھر سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں ملنے والی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان نے ہر سطح پر اپنی قوت میں اضافہ کر لیا ہے۔






















