امریکہ پاکستان پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالے: ہالبروک

افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر زیادہ سے زیادہ دباؤ قائم رکھے تا کہ پاکستانی فوجی مؤثر انداز میں شدت پسندوں سے نمٹے۔
لیکن اس کے ساتھ ہی اوباما انتظامیہ نے پاکستان میں جمہوری حکومت کا بھی ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں دینا بہت بڑی غلطی ہوگی اور امریکہ اس کے بالکل خلاف ہے۔
رچرڈ ہالبروک نے منگل کو امریکی ایوانِ نمائندگان اور خارجہ امور کی کمیٹی کے اراکین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے تمام فریقین پر کھلم کھلا اور نجی طور پر بھی یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان میں فوج کے ہاتھ میں اختیارات جانا غلط ہوگا۔
اوباما انتظامیہ کا یہ اعلان پاکستان کی موجودہ حکومت اور ایک ملک کی حیثیت سے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں امریکی کانگریس کی بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکی کانگریس کے کئی اراکین نے پاکستان کی صورتِ حال پر انتہائی تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے لیکن حکومت جاگ نہیں رہی۔
رچرڈ ہالبروک کے انہیں ریمارکس کے پس منظر میں امریکہ کے دورے پر پہنچے ہوئے پاکستانی صدر آصف زرداری نے منگل کو کانگریس کے کچھ اراکین سے ملاقات کی۔ ادھر پاکستان افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس بدھ کو ہو رہا ہے جس میں صدر زرداری اور افغانستان صدر حامد کرزئی بھی شریک ہوں گے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے براجیش اوپادھیائے نے بتایا ہے کہ رچرڈ ہالبروک کو کانگریس کے اراکین اور خارجہ امور کی کمیٹی کے ممبران کے تلخ اور غصے سے بھرے ہوئے کئی سوالوں کا جواب دینا پڑا۔ ہالبروک نے کہا کہ پاکستان شدید دباؤ میں ہے مگر پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے۔
ایوانِ نمائندگان کے رکن گیری ایکرمین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے اور پاکستان کے رہنما یہ آگ بجھانے کی بجائے اس سوچ پر گامزن ہیں کہ اگر جہادیوں کو اکیلا چھوڑ دیا جائے تو یہ آگ خود بخود بجھ جائے گی۔
ایک رکن نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو امریکی امداد اس شرط پر دی جائے کہ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پوچھ گچھ کے لیے امریکہ کے حوالے کرے۔ دوسرے ممبر کا کہنا تھا کہ ایف سولہ طیاروں کی بِکری پر بھی شرائط عائد کی جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رچرڈ ہالبروک نے اپنے جواب میں کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کا بھرپور ساتھ دے اور صدر زرداری کے ساتھ نظر آئے تاکہ پاکستان میں جمہوری استحکام آ سکے۔
انہوں نے صدر زرداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صدر طالبان کے ساتھ سوات معاہدے کے خلاف تھے اور انہیں نظام عدل کی دستاویز پر دباؤ میں دستخط کرنے پڑے۔ رچرڈ ہالبروک نے ان افواہوں کی بھی تردید کی کہ امریکہ صدر زرداری کی جگہ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے صدر آصف زرداری کے درمیان بدھ کو ملاقات ہوگی جس میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق افغان صدر یہ مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان ’اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں‘ بند کرے۔






















