دفاتر پر قبضہ قائم، زمرد کان پر شیلنگ

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز نے پہلی مرتبہ طالبان کے زیر قبضہ زمرد کی کانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی ہے تاہم مینگورہ کے بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔
دوسری طرف منگل کی رات سے جاری فائرنگ کے نتیجے میں نو شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے جس کے ساتھ ہی تین دنوں کے دوران مرنے والے شہریوں کی تعداد تقریباً اٹھارہ تک پہنچ گئی ہے۔
ادھر کمشنر، ناظم، ڈی آئی جی، پولیس تحقیاتی اور فرنٹیئر ریزرو پولیس پر طالبان کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مینگورہ کے نواح میں شاہ درہ کے علاقے میں واقع طالبان کے زیر کنٹرول زمرد کے کانوں پر بدھ کی صبح سویرے شیلنگ شروع کی جو دوپہر تک جاری رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں بعض طالبان کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شیلنگ میں عام آبادی بھی نشانہ بنی ہے جس میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے بقول بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیلنگ کے بعد شاہ درہ کے رہائشیوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ ان کے بقول کرفیو کے نفاذ اور شہر کے اہم سڑکوں پر طالبان کے قبضے کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کے لیے تنگ و تاریک گلیاں استعمال کررہے ہیں۔
اس کے علاوہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کل پوری رات طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ جاری رہی جس میں باچا صیب محلے میں ایک گھر میں مارٹر کا گولہ گرا ہے جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ پولیس لائن کے قریب ایک شخص بھی گولیوں کا نشانہ بنا ہے۔ شہریوں کی ہلاکتوں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ادھر کمشنر، ناظم، ڈی آئی جی، پولیس تحقیاتی اور فرنٹیئر ریزرو پولیس پر طالبان کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔ان سرکاری دفاتر پر طالبان نے منگل کی شام کو قبضہ کیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق مینگورہ شہر کے بڑا حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور انہوں نے شہر کی بڑی بڑی عمارتوں پر مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ سوات میں کل کے برعکس بدھ کو کرفیو میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں کی گئی ہے۔


















