’عدالتی چالان میں تاخیر، قیدی متاثر‘

سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشنپاکستانی جیلوں کے حالات ایسے ہیں کہ ہر ایک کو پیسے دینے پڑتے ہیں:چیف جسٹس
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پولیس کی طرف سے بروقت عدالتوں میں مقدمات کا چالان پیش نہ کرنے کی بناء پر مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے جس کا خمیازہ قیدیوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

یہ ریمارکس انہوں نے جمعرات کو قیدیوں کی سزا شروع ہونے کے معاملے پر دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔یہ درخواست ایک قیدی شاہ حسین کی طرف سے دائر کی ہے اور اس کی سماعت سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ کر رہا ہے۔

قیدی شاہ حسین کو پولیس نے کوہستان سے سنہ 1999 میں قتل کی اعانت میں گرفتار کیا تھا جس پر عدالت نے اس مقدمے کے فیصلے پر انہیں دو مرتبہ عمر قید کی سزا کے علاوہ دس دس سال مزید قید کی سزا سُنائی تھی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس آڈر سنہ دوہزار دو کے مطلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر ریماکس دیتے ہوئےکہا کہ اس پر مکمل طور پر عملدرامد نہیں ہوا جس سے نہ صرف پولیس کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے بلکہ اس سے بدعنوانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مدعی کو کارروائی کروانے کے لیے پولیس کو دو مرتبہ پیسے دینا پڑتے ہیں ایک مقدمہ درج کرواتے وقت اور دوسرا اس مقدمے کی پیروی کے لیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گھر میں لاش پڑی ہوتی ہے اور اُس کے ورثاء مقدمہ درج کروانے کے لیے پولیس کو پیسے دینے کا بندوبست کر رہے ہوتے ہیں۔

افتخار حسین گیلانی جنہیں عدالت نے اس درخواست کی سماعت کے حوالے سے معاونت کے لیے طلب کیا تھا، دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو سزا میں ریلیف ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی سزا اُس دن سے شروع ہونی چاہیے جس دن سے اُنہیں گرفتار کیا جاتا ہے کیونکہ ملزم کی گرفتاری سے اس کی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹیوازم سے عوامی معاملات اُٹھا رہی ہے اُس کو منفی طریقے سے نہیں لینا چاہیے بلکہ اس معاملے میں اگر سپریم کورٹ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس سے دس سے پندرہ ہزار قیدیوں کو فائدہ ہوگا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہویے کہا کہ پاکستانی جیلوں کے حالات ایسے ہیں کہ ہر ایک کو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے قیدیوں کی سزا میں کمی کے اعلان اور اس کا اہل ثابت کرنے کے لیے بھی اُسے جیل کے عملے کو پیسے دینا پڑتے ہیں۔

افتخار گیلانی نے کہا کہ مقدمات کا چالان عدالت میں تاخیر سے پیش ہونے کی وجہ سے ملزمان کو اضافی سزا کاٹنا پڑتی ہے جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔

قیدی شاہ حسین کے وکیل ذوالققار ملوکا نے کہا کہ قیدیوں کو ریلیف فراہم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ سپریم کورٹ کا ہی وہ فیصلہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گرفتار ہونے والے افراد کی سزاؤں میں اُس وقت تک کمی نہیں ہوسکتی جب تک اُن کے خلاف دائر مقدمات میں اُن کو مجرم ثابت نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس جب کسی شخص کو گرفتار کرتی ہے تو اُس کی آزادی تو اُسی وقت ہی ختم ہوجاتی ہے۔لیکن وہ سزاؤں میں کمی کے حکومتی اعلان سے مستفید نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے خلاف درج مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت گیارہ مئی تک ملتوی کردی۔