دہشتگردی کےخلاف متحد ہوں:کیانی

پاکستان کی فوج اندرونی خطرات کی شدت سے مکمل طور پر با خبر ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فوج اندرونی خطرات کی شدت سے مکمل طور پر با خبر ہے
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کے حالات کا تقاضہ ہے کہ قومی طاقت کے تمام عناصر متحد ہو کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑیں۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو کور کمانڈرز کی ایک سو اٹھارویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور جمہوری حکومت کے ماتحت عوام فوج کے تعاون سے اپنے قومی مفادات کے مطابق موجودہ بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ ’ پاکستان کی فوج نے ’لو اِنٹینسٹی کنفلکٹ‘ یعنی کم شدت والی لڑائی سے متعلق تمام تر سہولیات حاصل کرلی ہیں۔

بیان میں کم شدت والی لڑائی کی تشریح تو نہیں کی گئی لیکن بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد طالبان اور بلوچ قوم پرستوں کی مسلح کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔

آرمی چیف نے مزید کہا ہے کہ ’پاکستان کی فوج اندرونی خطرات کی شدت سے مکمل طور پر با خبر ہے اور وہ شدت پسندوں پر حاوی ہونے کے لیے تمام مطلوبہ وسائل بروئے کار لائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ فوج روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

بیان کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کو موجودہ سلامتی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اجلاس میں فوج کے پیشہ ورانہ مفادات اور آپریشنل تیاریوں کے متعلق امور بھی زیر بحث رہے۔ آرمی چیف نے ’سالِ تربیت‘ کے سلسلے میں جاری فوجی تربیت کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف نے کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ عوام کے تعاون سے فوج موجودہ اور مستقبل کے چیلینجز سے کامیابی سے نمٹ لے گی۔

فوجی ترجمان نے اس اجلاس کو معمول کی کارروائی قرار دیا ہے لیکن یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق صدر اوبامہ کی نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کے لیے بات چیت میں مصروف ہے اور صوبہ سرحد کی مالاکنڈ ڈویژن میں فوج اور شدت پسندوں کی لڑائی تیز ہوگئی ہے۔

بیان میں کم شدت والی لڑائی میں فوج کی مہارت اور سہولیات کے علاوہ جمہوری حکومت کی ماتحتی کے تذکرے کو بھی بعض سیاسی تجزیہ کار اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ یہ بات اس وقت کہی گئی ہے جب چند روز قبل امریکی اعلیٰ فوجی کمانڈر مائیک ملن سے منسوب یہ بیان سامنے آیا کہ فوج سویلین حکومت کا تختہ الٹنے والی تھی۔