خاصخیلی کیس:ضمانت مسترد، وریام فرار

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی کی ایک عدالت نے پیر پگارہ کے خلیفے وریام فقیر اور ان کے چار ساتھیوں کی ایک بھوک ہڑتالی ولیداد خاصخیلی کے قتل کیس میں عبوری ضمانت مسترد کردی ہے جس کے بعد وریام فقیر اور ان کے رشتے دار عدالت سے فرار ہوگئے۔
تاہم دیگر تین ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
جمعرات کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی عبدالنعیم میمن کی عدالت میں ولیداد خاصخیلی کے قتل کیس میں ملزمان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوئی اور سابق رکن صوبائی اسمبلی وریام فقیر، تحصیل ناظم سنجھورو ہاشم خاصخیلی، یونین کاؤنسل ناظم منظور بروہی سمیت پانچ ملزم پیش ہوئے۔
ملزمان کے وکیل نے ضمانت میں توسیع کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کردیا جس پر وریام فقیر نے دوڑ لگا کر عدالت سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران وریام فقیر کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی مگر وہ اپنے قریبی رشتہ دار ہاشم خاصخیلی کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ دیگر تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
یاد رہے کہ کراچی پریس کلب کے باہر سانگھڑ کے گاؤں عیسٰی خاصخیلی کے رہائشی لوگوں نے گاؤں سے بیدخلی کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی جس کے دوران ولیداد خاصخیلی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ زمیندار کے لوگوں نے انہیں دھمکایا جس وجہ سے ولیداد کی موت واقع ہوگئی۔
نصف درجن سے زائد وزرا اور مشیروں نے متاثرین کو زمین واپس کرنے اور مقدمہ درج کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے بعد حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے سابق رکن صوبائی اسمبلی وریام فقیر پر مقدمہ درج کرلیا گیا اور متاثرین نے بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔
کچھ عرصے کے بعد متاثرین نے کراچی پریس کلب کے باہر دوبارہ بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کردیا ہے ان کا کہنا تھا کہ پولیس انہیں تحفظ فراہم نہیں کر رہی اور زمین ان کے حوالے نہیں کی جارہی۔
وریام فقیر خاصخیلی کا موقف ہے کہ متنازعہ زمین ان کی ملکیت ہے اور گوٹھ عیسٰی خاصخیلی میں ان کے ہاری رہتے ہیں انہیں ولیداد والوں کے اس گاؤں میں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر وہ اپنی ملکیت پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔اس وقت ولیداد خاصخیلی کا خاندان ان کے مخالفین کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















