’فریقین جنگی قوانین کی پاسداری کریں‘

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں جاری مسلح تصادم میں فریقین جنگی قوانین کی پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کے ہر ممکن اقدامات کریں۔
یہ بات جمعرات کو پاکستان میں آئی سی آر سی کے سربراہ پاسکل کیوتا نے ایک بیان میں کہی۔ ’آئی سی آر سی مسلح تصادم میں شامل تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری بالخصوص عام شہریوں کے تحفظ کے ہر ممکن اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔‘
آئی سی آر سی نے خبردار کیا ہے کہ صوبہ سرحد میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق سوات، دیر اور بونیر سے حالیہ دنوں میں پانچ لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
پاسکل کیوتا نے کہا کہ لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کو بنیادی ضروریات بشمول خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولیات کے حصول کا حق حاصل ہے۔ ’آئی سی آر سی جیسے انسان دوست اداروں کو متاثرہ آبادی تک محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی دی جانی چاہیے۔‘
بیان کے مطابق صوبہ سرحد میں آئی سی آر سی کی سرگرمیوں کے انچارج بینو کوشر کا کہنا ہے ’غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے لڑائی سے شدید ترین متاثرہ علاقے ہماری رسائی سے باہر ہو گئے ہیں۔ تاہم ہم نقل مکانی کرنے والے مزید افراد کی امداد اور متاثرہ علاقوں تک جلد از جلد رسائی دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
بیان کے مطابق تاحال آئی سی آر سی اور ہلال احمر پاکستان ایک لاکھ بیس ہزار نقل مکانی کرنے والے افراد کو خوراک و دیگر امدادی سامان فراہم کر رہے ہیں۔ آئی سی آر سی ممکنہ طور پر تیس ہزار افراد کو طبی امداد بھی دے سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اس نے پشاور میں جنگ سے متاثرہ علاقوں سے زخمی آنے والوں کے لیے سرجیکل ہسپتال کا افتتاح بھی کیا ہے اور اس کی گنجائش ساٹھ بستروں سے بڑھا کر سو بستروں کی جا رہی ہے۔ آئی سی آر سی تیمر گرہ، مردان اور سوات کے ہسپتالوں سے سے بھی روزانہ رابطے میں رہی ہے تاکہ ان کی ضروریات کا اندازہ ہو سکے اور مدد فراہم کی جائے۔
آئی سی آر سی پاکستان کے صوبہ سرحد اور فاٹا میں ستمبر دو ہزار آٹھ سے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی رہی ہے، تاکہ پاکستان کی افواج اور مسلح مخالف گروہوں کے مابین جاری لڑائی سے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مدد کی جاۓ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے سے شروع لڑائی سے قبل آئی سی آر سی صوبہ سرحد اور فاٹا میں اسکی معاون ہلال احمر پاکستان کے ساتھہ ملکر اور اسکے علاوہ بھی ایک لاکھ لوگوں کی امداد جاری رکھے ہوئے تھی۔
واضع رہے کہ چند روز پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس وقت پاکستان کو نقل مکانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ایک طرف دیر میں آپریشن سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد ہیں تو دوسری طرف سوات اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد ہیں جو کہ کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔






















