امتحانی سکینڈل: رہائی پر ازخود نوٹس

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی حاجی پرویز کے رشتہ دار بلال جاوید کی رہائی پر ازخود نوٹس لے لیا ہے اور ملزم اور متعلقہ پولیس افسران سے جواب طلبی کی ہے۔
بلال جاوید انتیس اپریل کو راولپنڈی کے گارڈن کالج کے امتحانی مرکز سے اسلحہ سمیت گرفتار کیے گئے تھے لیکن اگلے ہی روز انہیں رہا کر دیا گیا۔ان پر الزام ہے کہ وہ اپنے رشتہ دار مسلم لیگ نون کے ایم این اے حاجی پرویز کی جگہ مبینہ طور پر انٹرمیڈیٹ کا امتحان دینے کی کوشش کررہے تھے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ بلال جاوید پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ چارسو انیس بھی لگائی جاسکتی ہے جو ناقابل ضمانت ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نےمتعلقہ پولیس حکام کو مقدمہ کا ریکارڈ لانے کا حکم دیا ہے اور بلال جاوید سے جواب طلب کیا ہے کہ وہ جمعہ کے روز عدالت کو بتائیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف دفعہ ’چارسوانیس ت پ‘ لگائی جائے اور ان کی ضمانت منسوخ کرکے انہیں جیل بھجوایا جائے۔
یہ سکینڈل میڈیا پر آنے کے بعد مسلم لیگ نون نے تنظیمی سطح پر انکوائری کرکے رپورٹ نواز شریف کو پیش کی اور نواز شریف کی ہدایت پر حاجی پرویز نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
مقامی میڈیا میں بلال جاوید کو حاجی پرویز کا بھتیجا بتایا گیا لیکن حاجی پرویز نے مسلم لیگ نون کی انکوائری کمیٹی کو بیان دیا تھا کہ وہ ان کا بھتیجا تو نہیں البتہ رشتہ دار ضرور ہے۔
حاجی پرویز راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ پچپن سے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے اور اس وقت تک رکن اسمبلی بننے کے لیے گریجویٹ ہونے کی شرط ختم ہوچکی تھی۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد حلقہ پچپن پر دوبارہ انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔یہ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا پرانا حلقہ ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی نئے انتخابات شیخ رشید کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔


















