مالاکنڈ: پانچ لاکھ کی نقل مکانی

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے مختلف ضلعوں میں جاری فوجی آپریشن کے وجہ سے پچھلےکچھ دنوں میں پانچ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔اس طرح سوات، بونیر ، دیر اور شانگلہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ایک ملین ہو چکی ہے۔
جنیوا میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان رون ریڈمونڈ نےکہا ہے کہ صوبہ سرحد کے مختلف حصوں میں جاری جنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پرلوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ گزشتہ چند روز میں دو لاکھ افراد محفوظ مقامات پر پہنچ چکے ہیں جبکہ تین لاکھ لوگ جنگ زرہ علاقوں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے کہا کہ نقل مکانی پر مجبور یہ لوگ ساڑھے پانچ لاکھ لوگوں کے علاوہ ہیں جو اگست 2008 سے پناہ گزیں کیمپوں میں پہنچ چکے ہیں۔
ادھر بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے سربراہ پاسکل کیوتا نے ایک بیان میں کہ سرحد میں مسلح تصادم میں شامل تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری بالخصوص عام شہریوں کے تحفظ کے ہر ممکن اقدامات کریں۔
آئی سی آر سی نے خبردار کیا ہے کہ صوبہ سرحد میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق سوات، دیر اور بونیر سے حالیہ دنوں میں پانچ لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
پاسکل کیوتا نے کہا کہ لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کو بنیادی ضروریات بشمول خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولیات کے حصول کا حق حاصل ہے۔ اور آئی سی آر سی جیسے اداروں کو متاثرہ آبادی تک محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی دی جانی چاہیے۔
آئی سی آر سی پاکستان کے صوبہ سرحد اور فاٹا میں ستمبر دو ہزار آٹھ سے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی رہی ہے، تاکہ پاکستان کی افواج اور مسلح مخالف گروہوں کے مابین جاری لڑائی سے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مدد کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضع رہے کہ چند روز پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس وقت پاکستان کو نقل مکانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ایک طرف دیر میں آپریشن سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد ہیں تو دوسری طرف سوات اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد ہیں جو کہ کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔






















