’120 اہلکار طالبان کے محاصرے میں‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے مینگورہ پولیس سٹیشن کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایک سو بیس سے زائد اہلکار مسلح طالبان کے محاصرے میں ہیں جبکہ اس دوران اعلٰی حکام سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود انہیں اسلحہ اور کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی نہیں گئی ہیں۔
مینگورہ پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو فون کر کے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے طالبان کے گھیرے میں ہونے کی وجہ سے ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء اور اسلحہ ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بی بی سی سے رابطہ اس لیے کیا کہ اعلٰی حکام بار بار رابطے کے باوجود ان کی بات پر غور نہیں کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھاری اسلحے سے لیس مسلح طالبان نے پولیس سٹیشن کو چاروں طرف سے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ان کے درمیان محض دو سو گز کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ ان کے بقول طالبان نے پولیس سٹیشن کے ارد گرد عمارتوں اور ہوٹلوں میں مورچے سنبھالے ہوئے ہیں اور ان پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ وہ بھی جواب میں بھاری اسلحے سے حملے کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ بڑی عمارتوں میں ہیں اس لیے ان کے ٹارگٹ پر نہیں آتے جبکہ وہ طالبان کے لیے ایک آسان ٹارگٹ ہیں۔
پولیس اہلکار کے بقول ان کی قیادت ایک فوجی افسر کر رہے ہیں جو بار بار اعلٰی حکام سے رابطہ کر رہے ہیں مگر جواب یہی ملتا ہے کہ ’فوج بری کوٹ کے مقام پر پھنسی ہوئی ہے پہلے ہم ان کی مدد کریں گے اور بعد میں آپ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آئیں گے۔ مگر کئی دن گزر گئے ہم ابھی تک ان کی مدد کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ہونے والی دو طرفہ فائرنگ میں ان کا کوئی ساتھی ہلاک نہیں ہوا ہے لیکن اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو انہیں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ان کے بقول طالبان نے اعلان کیا تھا وہ جمعہ ( آج) تک مینگورہ پولیس سٹیشن پر اپنا جھنڈا لہرائیں گے مگر انہوں نے ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دی اور اب بھی وہ پر عزم ہیں کہ آخری دم تک لڑیں گے۔
اس سلسلے میں صوبہ سرحد کے پولیس سربراہ ملک نوید سے رابطے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ سوات میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مینگورہ مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں ہے جبکہ سکیورٹی فورسز فوجی مرکز سرکٹ ہاؤس اور مینگورہ پولیس سٹیشن تک محدود ہوگئی ہیں۔
چند دن قبل طالبان نے سیدو شریف پولیس سٹیشن کے علاوہ ڈی آئی جی، فرنٹیئر ریزرو پولیس، کمشنر اور دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کیا تھا جو بدستور برقرار ہے۔ سیدو شریف پولیس سٹیشن پر ہونے والے قبضے کے دوران ایک اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق اہلکار کی لاش ابھی تک وہاں پر پڑی ہے۔


















