آرڈیننس فیکٹری کیس: فرد جرم عائد

واہ فیکٹری
،تصویر کا کیپشناکیس اگست دو ہزار آٹھ کو آرڈیننس فیکٹری کے باہر دو خودکش حملوں میں ستر افراد ہلاک ہوئے تھے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گذشتہ برس پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کے مرکزی دروازے پر ہونے والے دو خودکش حملوں میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان پر فرد جُرم عائد کر دی ہے۔

جمعہ کے روز راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے اس مقدمے کی سماعت کی اور پولیس کی طرف سے اس مقدمے کا چالان پیش کرنے کے بعد ملزمان پر فرد جُرم عائد کر دی۔ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان حمید اللہ اور مقصود احمد نے اس سے انکار کیا کہ وہ اس حملے میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس اکیس اگست کو اسلحہ بنانے والی فیکٹری پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے باہر دو خودکش حملوں میں ستر افراد ہلاک اور سینکٹروں زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملے اُس وقت ہوئے جب شفٹ میں کام کرنے والے افراد اپنی ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد گھروں کو واپس جا رہے تھے۔

پولیس نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے الزام میں پہلے حمید اللہ کو گرفتار کیا تھا اور اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ رانا شاہد کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اُسے قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود نے بھیجا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے میں بیس مئی کو شہادتیں طلب کر لی ہیں۔ اُدھر راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ کے قتل کے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کردیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ ملزمان پر اس مقمدے کی ائئندہ سماعت پر فرد جُرم عائد کردی جائے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ گذشتہ برس راولپنڈی کے علاقے مال روڈ پر ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ پولیس نے اس مقدمے میں نو ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ پاکستان ریلوے کے ہسپتال کے ڈاکٹر عبدالرزاق کے علاوہ محمد الیاس، محمد ندیم، محمد رضوان، فیصل احمد خان، ذیشان خلیل، محمد سرفراز، نعیم شاکر اور اسامہ بن وحید شامل ہیں۔

راولپنڈی پولیس کے سربراہ راؤ اقبال کے مطابق گرفتار ہونے ملزمان راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ پر ہونے والے خودکش حملے کے علاوہ، آر اے بازار اور اسلام آباد میں ڈنمارک سفارتخانے کے باہر ہونے والے خود کش حملے کے علاوہ اطالوی ہوٹل کے باہر ہونے والے بم دھماکے لاہور میں نیول وار کالج اور پولیس وین پر خودکش حملوں میں بھی ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کا تعلق کینیا کے ایک شدت پسند گروپ سے ہے جس کا سرغنہ پہلے ہی ہلاک ہو چکا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ کے قتل کے مقدمے کی سماعت اٹھارہ مئی تک ملتوی کر دی۔