سوات: ملا جلا سیاسی ردعمل

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان میں صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور ملحقہ اضلاع میں فوجی آپریشن کے حکومتی فیصلے کے بارے میں سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی پارٹیوں نے فوجی اقدام کی مخالفت کی ہے جبکہ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے حمایت کی ہے۔
مسلم لیگ نون کے ترجمان اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا اگر حکومت فوجی کارروائی کرنے سے پہلے مجوزہ قومی کانفرنس بلا لیتی۔ ان کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی تنازعہ میں ملٹری آپریشن آخری حربہ ہوتا ہے اور انہیں امید ہے کہ حکومت نے یہ قدم اٹھانے سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ہوگا اور سیاسی حکمت عملی بھی تیار کرلی ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے اس فوجی آپریشن کی کھل کر مخالفت کی اور کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کئی ہفتوں سے وزیر اعظم سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ مگر اس پر توجہ نہیں دی گئی، اور واشنگٹن سے حکم آنے کے بعد قوم کو اعتماد میں لیے بغیر فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن حکومت کی ناکامی کا واضح اعتراف ہے اس آپریشن میں سب کچھ ملیا میٹ ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومتیں فوج کو مدد کے لیے طلب کرتی ہیں تو پھر ایسا مرحلہ آجاتا ہے کہ سول حکومتوں کو رخصت کرکے فوج اقتدار پر قابض ہوجاتی ہے۔
مسلم لیگ قاف کے مرکزی رہنما کامل علی آغا نے کہا کہ فوجی آپریشن تو تین دن پہلے سے شروع ہوگیا تھا، وزیر اعظم نے بعد میں تقریر کی ہے۔ انہوں نے کہا عام شہریوں کو سوات سے نکلنے کا موقع تک نہیں دیا گیا اور اب بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں جو واقعات بیان کیے وہ سب ایک سال سے ہورہے تھے، کوئی نئی بات نہیں ہوئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ پہلے امن کا معاہدہ کیوں کیا اور اب اچانک فوجی آپریشن کیوں شروع کردیا گیا؟ مسلم لیگ قاف کے رہنما نے کہا یہ آپریشن بے یقینی پر مبنی ہے اور اس کے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب پارلیمان موجود ہے اور کمیٹی نے ایک متفقہ لائحہ عمل بھی بنا لیا ہے اب جبکہ اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں لایا جانا تھا لیکن اس سے پہلے ہی فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فوجی آپریشن کو قوم کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے غیر جمہوری رویہ اختیار کیا ہے۔
مختلف مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ مفتی سرفراز نعیمی نے کہاکہ سوات میں اپنی مرضی کی شریعت تھوپنے کی کوشش کرنا اور ملک میں فساد برپا کرنا غلط ہے۔ ایسے لوگوں نے ملک اور اسلام کو نقصان پہنچایا لیکن فوجی آپریشن ایک ایسے موقع پر شروع کیا گیا جب صدر مملکت امریکہ کے دورے پر تھے۔ انہوں نے کہا اس وجہ سے اس آپریشن کےبارے میں شکوک پیدا ہوئے ہیں کہ یہ امریکہ کے کہنے پر شروع کیا گیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما اور صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت نے معاہدہ امن کے ذریعے ہر ممکن کوشش کی کہ علاقے میں امن قائم ہوجائے لیکن شدت پسندوں کے مقاصد کچھ اور تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کا ہر مطالبہ مان لیا تھا لیکن پھر بھی انہوں نے لوگوں کا قتل جاری رکھا، سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں اور لوگوں کی املاک پر قبضہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے اور وہ یہ ہرصورت نبھائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایم کیوایم نے حکومتی اقدام اور فوجی آپریشن کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیوایم کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جس سے طالبائزیشن کا خاتمہ ہوسکے۔






















