ایک ٹیچر کا درد

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، صوابی
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد میں جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے قائم مہاجر کیمپ صرف انسانوں کا مسکن نہیں بلکہ یہاں پر جنگ کی کوکھ سے جنم لینے والی بے شمار دکھ بھری کہانیاں بھی بستی ہیں۔ایسی ہی ایک کہانی غالب گل کی ہے جنہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ’میں نے چار سال کی محنت سے ایک سکول قائم کیا لیکن طالبان کے سر تن سے جدا کرنے کی دھمکی نے میری محنت کو غارت کردیا۔‘
غالب گل ضلع بونیر کوگا کے دمغار کے رہائشی ہیں اور میری ان سے ملاقات صوابی یار حسین مہاجر کیمپ میں ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں کوئی سکول نہیں تھا تو انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک سکول قائم کیا جس میں ابتداء میں اٹھائیس بچوں کو داخل کروایا گیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تعداد بڑھتی ہوئی نوے تک پہنچ گئی۔
غالب گل گزشتہ چار سال سے ان بچوں کو پڑھاتے رہے اور انہوں نےپہلی کلاس سے شروع ہونے والے سکول کو درجہ چہارم تک پہنچایا کہ ایک دن بونیر میں طالبان کی آمد ہوئی جو گشت لگاتے ہوئے غالب گل کے گاؤں بھی پہنچ گئے۔
غالب گل کے بقول طالبان نے انہیں دھمکی بھجوائی کہ ’وہ این جی او کے تحت سکول چلا رہے ہیں لہذا سکول بند کردیں نہیں تو انہیں ذبح‘ کردیا جائے گا۔اس کے بعد انہوں نے گاؤں والوں کو بلایا اور کہا کہ وہ مزید بچوں کی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے یوں سکول کو بند کردیا گیا۔
غالب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا’اتنے اچھے اور ذہین بچے تھے کہ جب بھی کوئی اہلکار سکول کا دورہ کرتا تو وہ ہمیں انعام دیتا لیکن جس دن میں نے بچوں کو کہا کہ کل سے سکول بند ہوگا تو وہ بھی رونے لگے اور میں بھی۔‘

اگلے دن فوج نے طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی اور غالب گل نے تو پہلے سکول کو خیر باد کہا تھا لیکن اب گاؤں بھی گولہ بارود کی زد میں آکر رہنے کے قابل نہیں رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ’میرے بیٹے معاذ نے تین دن تک کھانا نہیں کھایا وہ پوچھتا رہا کہ بابا یہ جہاز کیوں بمباری کرتے ہیں میں کہتا وہ طالبان کو مار رہے ہیں وہ پھر سے پوچھنے لگ جاتا ہے کہ یہ طالبان ہوتے کیا ہیں۔‘
غالب گل حالات کی ذمہ داری حکومت پر کم اور طالبان پر زیاد ڈالتے ہیں۔ان کے پاس دلیل یہ ہے کہ ’طالبان کے نفاذ شریعت کا مطالبہ حل ہوگیا تو اب ان کا متوازی حکومت چلانے کا کوئی جواز نہیں رہا۔‘
غالب گل سے پوچھا گیا کہ جب طالبان بونیر میں تھے تو اس وقت وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوئے تھے لیکن فوج آئی تو انہیں اپنے علاقے کو خیر باد کہنا پڑا لہذا ان حالات میں ان کی ہمدری طالبان کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ تو انہوں نے کہا’ میری ہمدردی حکومت کے ساتھ ہے یہ ٹھیک ہے کہ حکومت نے ہمیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا لیکن آج تو پناہ بھی دی رہی لیکن طالبان سزا تو دیتے ہیں ریلیف نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غالب گل کو واپس جانے والے سکول کھولنے کی خواہش ہے لیکن انہیں امید نہیں کیونکہ بقول انکے’ اب فوجی کاروائی شروع ہوئی ہے اور مجھے اسکے جلدی ختم ہونے کی توقع نہیں ہے۔‘






















