وزیرستان: اٹھارہ ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمعاہدوں کے باجود جنوبی وزیرستان میں امن قائم نہیں ہوسکا ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر مبینہ حملے کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے اٹھارہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے عام شہری ہیں۔

حکام کے مطابق طالبان کے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

ایک اعلی فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنچر کی شام تقریباً دس گاڑیوں پر مشتمل ایک سکیورٹی قافلہ گومل سے وانا جا رہا تھا کہ وانا سے تیس کلومیٹر دور مشرق کی جانب سپین کے علاقے میں مقامی طالبان نے قریبی پہاڑوں سے اس پر فائرنگ کر دی۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں اٹھارہ مقامی طالبان ہلاک ہوگئے ہیں اور فوج نے چار لاشیں قبضے میں لے کر وانا پہنچا دی ہیں۔

لیکن وانا میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی ہلاک ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔

سپین میں ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار گورنمنٹ ہائی سکول سپین کے اساتذہ، دو ویٹرنیری ہسپتال کے ڈاکٹر دو مزدور شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کے ٹیچر اور ڈاکٹروں کا تعلق وانا سے نہیں تھا۔

مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے بھی سرکاری اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔

مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فوج نے سڑک کے قریب تین گھروں کے اندر گھس کر عام لوگوں پر فائرنگ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی سے آٹھ شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں چار کی حالت تشویشناک ہے۔