ساڑھے تین لاکھوں افراد محفوظ مقامات پر

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے شہروں سوات بونیر اور دیر میں فوجی آپریشن سے متاثر ہونے والے تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد محفوظ مقامات پر پہنچ چکے ہیں جن میں سے پونے دو لاکھ افراد صوبائی حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔
صوبائی ریلیف کمشنر کے مطابق اتوار کے روز کرفیو میں نرمی کے دوران کوئی ایک لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔
حالیہ فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد پیدا ہونے والے اس بڑے انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے صوبہ سرحد کی حکومت اپنے طور پر متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے کر رہی ہیں لیکن بڑی تعداد میں لوگ ریلیف کیمپوں کی بجائے اپنے رشتہ داروں کے پاس پہنچ رہے ہیں۔
سرحد کے ریلیف کمشنر جمیل امجد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بیس فیصد افراد کیمپوں میں پہنچ رہے ہیں جن کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے جبکہ اسی فیصد افراد اپنے رشتہ داروں کے پاس جا رہے ہیں۔
سوات سے اسلام آباد پہنچنے والی ایک بیوہ شہناز نے کہا ہے کہ وہ کیمپوں میں نہیں جانا چاہتی تھی ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور یہاں اپنے داماد کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’چار روز سے تو وہ کھانا دے رہے ہیں لیکن اب کب تک وہ ہمارا بوجھ اٹھائیں گے‘ اس لیے وہ خود کوئی روزگار تلاش کریں گی۔ شہناز نے بتایا کہ ان کے دس بچے ہیں جن میں سے تین بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے
سرحد کے ریلیف کمشنر کے مطابق وفاقی حکومت نے متاثرین کی امداد کے لیے پچاس کروڑ روپے فراہم کیے ہیں جن میں سے اب تک انہیں پندرہ کروڑ روپے ملے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اس رقم میں سے ایک ایک کروڑ روپے مردان اور ملاکنڈ ڈویژن کے کمشنرز کو اور پچاس پچاس لاکھ دیگر متعلقہ علاقوں میں انتظامیہ کو دیے گئے ہیں تاکہ شورش زدہ علاقوں سے پرامن علاقوں میں پہنچنے والے متاثرین کو کیمپوں تک لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور تیار کھانا فراہم کیا جا سکے۔
جمیل امجد نے بتایا کہ نظام عدل معاہدے سے پہلے نقل مکانی کرنے والے کوئی چھ لاکھ افراد کی امداد کے لیے گزشتہ ہفتے جینیوا میں بین الاقوامی سطح پر امداد کے لیے ایک سو چھیتر ملین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اب اس تازہ کارروائی کے بعد نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی تعداد نو لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور اب اس کے لیے ایک نئی اپیل تیار کی جا رہی ہے جو بین الاقوامی سطح پر پیش کر دی جائے گی۔ جینیوا جانے والے وفد میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام بھی شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















