سوات: کرفیو میں نرمی ختم، 180 شدت پسند ’ہلاک‘

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
سوات کے صدر مقام مینگورہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ ہزاروں لوگ پیدل سفر کر رہے ہیں۔
صبح چھ بجے کرفیو میں نرمی ہوتے ہیں مینگورہ میں پھنسے ہوئے خاندان وہاں سے نکل پڑے۔ محفوظ مقامات پر پہنچنے کےلیے کچھ لوگ ٹریکٹر ٹرالیوں، گاڑیوں کی چھتوں اور پیدل جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سوات اور شانگلہ کے مختلف علاقوں میں ایک سو اسی سے دو سو تک شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاھم آزاد ذرائع اور طالبان سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
پاکستانی فوج کے ایک بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اتوار کو سوات کے مختلف علاقوں کانجو، مینگورہ، وینہ بابا نمل؛ قمبر؛ پیوچار؛ فضاء؛ تیلی گرام اور چند تلئی میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔جس میں پچاس سے ساٹھ تک مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان فوج نے الزام لگایا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے تھانہ ملاکنڈ اور مینگورہ میں شہری آبادیوں پر ماٹرگولوں سے حملے کیے ہیں اور گلیوں اور سڑکوں میں بارودی سرنگیں بھچائی گئی ہیں۔جس کے نتیجہ میں کئی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ بیان میں کہاگیا ہے کہ شدت پسندوں نے بری کوٹ اور مینار میں دو سکولوں کو تباہ کیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق شدت پسندوں نے نشت چوک میں ایک مسجد کے امام زاہد خان کو قتل کیا ہے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ادھر شانگلہ میں بھی سکیورٹی فورسز نے بنئی بابا میں واقعہ ایک مبینہ ٹرینگ کیمپ کو تباہ کیا ہے۔ جس میں اطلاعات کے مطابق ایک سو چالیس سے ایک سو پچاس تک شدت پسند مارے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے اس میں دو سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
فوج کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے موسی خان اور سری کوٹ کی طرف پیش قدمی کی ہے۔اور اس دوران شدت پسندوں نے مزاحمت کی ہے۔جس میں ایک اہلکار زخمی جبکہ پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوات سے پیدل نقل مکانی کرنے والوں میں شامل ابراہیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سوات سے اپنے خاندان کے ساتھ مردان کی جانب پیدل روانہ ہوئے ہیں اور دو گھنٹے کے سفر کے بعد وہ مینگورہ کے قریب لنڈاکائی چیک پوسٹ پہنچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والوں کا اتنا رش ہے کہ سڑک پر چلنے کی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہ چیک پوسٹ پر موجود نقاب پوش سکیورٹی اہلکار گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں کوئی ایک آدمی بھی نہیں رہ گیا ہے اور تمام کے تمام لوگوں محفوظ مقامات کی طرف جا چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز گن شیپ ہیلی کاپٹروں کی شلینگ کی وجہ سے علاقے میں کافی حوف پھیل گیا تھا۔
مردان متاثرین کیمپ میں پہنچنے والی خاتون چاند بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے بچوں کےساتھ مردان آئی ہیں لیکن یہاں ان کو ایک خیمہ تو ملا ہے لیکن کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔چاند بی بی کے مطابق ان کو ایک لوٹا دیا گیا ہے جو پانی پینے کے لیے اور وضو دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ طالبان کی وجہ سے نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوات کے متاثرین کے لیے مناسب انتظامات کیے ہیں لیکن حکام کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر سو متاثرین کے لیے انتظامات مکمل ہوجائے تو ایک گھنٹے کے بعد ایک ہزار لوگ پہنچ جاتے ہیں۔سرکاری اہلکاروں کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سنھبالنا ایک مشکل کام ہے
سنیچر کو حکام نے مینگورہ کے قریب رحیم آباد اور قمبر کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کو کہا تھا۔نقل مکانی کے وقت اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کو سہولت مہیا کرنے کی غرض سے مالاکنڈ ڈویژن میں چلنے والی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو بندوبستی علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن جو صوبے کے زیر انتظام نیم قبائلی علاقہ ہے وہاں بغیر کسٹم ادا کیےگاڑیاں رکھنے کی اجازت ہے۔






















