درہ خودکش حملہ، ہلاکتیں دس ہوگئیں

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشندھماکے کے وقت چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی تھی۔
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک مبینہ کار بم خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہوگئی ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

پشاور میں پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں ایف سی کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔

درہ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح کوہاٹ درہ آدم خیل سڑک پر ایف سی کے ایک قلعہ کے قریب انٹری پوائنٹ پر پیش آیا۔

ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک مبینہ خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سڑک کے کنارے قائم سپینہ تھانہ ایف سی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے وقت چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی تلاشی ہورہی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور درہ آدم خیل سے پشاور کی طرف جارہا تھا تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو گھیرے میں لیکر میں کوہاٹ درہ آدم خیل شاہراہ ہر قسم کے ٹریفک کےلتے سڑک بند کردی ہے۔ تاحال کسی تنظیم اس دھماکے کے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب حکام کے مطابق سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں طالبان کے خلاف فوجی کاروائیاں میں اضافہ ہوا ہے۔

درہ آدم خیل میں گذشتہ چند روز سے نامعلوم افراد کی جانب سے سرکاری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کا سلسلہ شروع تھا۔

مارچ میں کوہاٹ سے پشاور جانے والے ایف سی کے دو گاڑیاں میں سے ایک گاڑی نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں عباس چوک کے قریب ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی ۔ جس کے نتیجے میں دو راہگیر ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔