خاندانی سیاست کی بیماری

بلاول و زرداری
،تصویر کا کیپشنبلاول بھٹو اپنی والدہ کی وصیت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین ہیں
    • مصنف, ماہ پارہ صفدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
  • وقت اشاعت

پاکستان میں سیاست خاندانی جاگیر سمجھی جاتی ہے لیکن اس کا کچھ اندازہ واشنگٹن میں امریکی خارجہ تعلقات کی کمیٹی سے مذاکرات کے دوران صدر آصف زرداری کے پہلو میں کسی سیاسی رہنما یا وزیرِ خارجہ کے بجائے ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو کو دیکھ کر ہوا۔ بلاول بھٹو اپنی والدہ کی وصیت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین ہیں۔ حکومت میں ان کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔ گو کہ خاندانی سیاست کی بیماری پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ جنوبی ایشا کے کئی اور ممالک مثلاً ہندوستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی پور پور اسی بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

یہاں بھی سیاست معدودے چند خاندانوں کے گھر کی باندی ہے۔ مثلا ہندوستان جیسی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں کانگریس جیسی بڑی جماعت کو گاندھی خاندان کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ بنگلہ دیش میں سیاست سے دو خاندانوں کی بیگمات اگر نکل جائیں تو باقی کیا بچے گا۔ لہذا سیاست بس دیوانہ وار ان کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ مگر پاکستان اس معاملے میں نہ صرف دو ہاتھ اگے نظر بلکہ کچھ وکھری قسم کا ہے۔ یہاں اقتدار کی خواہش میں راتوں رات بلاول زرداری سے بلاول بھٹو ہوگئے۔ گویا اگر نام کے ساتھ بھٹو نہ ہوا تو قیامت آ بھی سکتی ہے۔ یعنی اقتدار کی گلیاں کسی اور محلے کی جانب بھی نکل سکتی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ’بھٹو‘ خاندان کی ہمیشہ اقتدار میں رہنے کی خواہش محض خواب ہی رہ جائے۔ بہرحال اس صورت حال کا اندازہ تو عام انتخابات کے موقع پر ہی ہوسکے گا۔ مگر فی الحال زمینی حقائق یہ ہیں کہ بھٹو ہو جانے والے بلاول کے سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھنے کے ابتدائی اسباق شروع ہوچکے ہیں اور اس تیاری کی ابتدا واشگٹن کے ایوانوں سے ہوئی ہے۔ جہاں انتخابی سیاست میں امیدوار نیچے سے چھن کر اوپر پہنچتا ہے۔ وہاں خاندانی پس منظرکا کو ئی کردار نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر امریکیوں کے سابق محبوب صدر کینڈی کی اکلوتی اور واحد زندہ بچ جانے والی صاحبزادی کیرولین نے سینٹر بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تو انھیں کورا سا جواب دے دیا گیا۔ مگر کیرولین بلاول تو نہیں ہیں نا؟

چلیں خیر امریکہ کو تو چھوڑیے۔ خود اپنے ہی خطے میں اپنے ہمسایہ ملک کودیکھ ہی لیجیے۔ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اگر چاہتیں تو اپنے صاحبزادے راہول کو بغیر سیاسی تجربے کے پارٹی کے کسی اہم عہدے پر نامزد کرسکتی تھیں۔ مگر انھوں نے اس کے بجائے راہول کی سیاسی اسرار رموز کی تربیت کا آغاز بالکل نچلی سطح سے کیا۔ اور انھیں پارٹی کی اصل طاقت یعنی انتخابی حلقوں میں بھیجا۔ یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ اب اگر راہول کسی دن ملک کے وزیر اعظم بن بھی جائیں تو اس میں ان کی اپنی محنت کا بہت بڑا حصہ ہوگا۔