پاکستان: داخلی تصادم میں اضافہ

دو ہزار آٹھ کی آخری سہ ماہی سے مسلح تصادم میں تیزی آئی ہے
،تصویر کا کیپشندو ہزار آٹھ کی آخری سہ ماہی سے مسلح تصادم میں تیزی آئی ہے
    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ کی آخری سہ ماہی سے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے کچھ علاقوں میں انٹرنل آرمڈ کانفلکٹ (داخلی مسلح تصادم) جاری ہے۔

یہ بات آئی سی آر سی کے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر آپریشنز جیک ڈیمائر نے بی بی سی سے انٹرویو میں کہی۔ ’آئی سی آر سی کا کام سیاسی پیشین گوئیوں پر نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ اور حقائق یہ ہیں کہ دو ہزار آٹھ کی آخری سہ ماہی سے مسلح تصادم میں تیزی آئی ہے اور اس کے نتیجے میں متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

واضح رہے کہ جنیوا کنونشنز کے مطابق داخلی مسلح تصادم میں ایک ملک کی فوج اور اسی ملک میں مسلح گروہ کے درمیان تصادم ہو۔ اس تصادم کی شدت زیادہ اور ایک لمبے دورانیے تک رہے۔ اس کے علاوہ مسلح گروہ کا علاقے پر قبضہ ہو اور اس علاقے پر ان ہی کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس مسلح گروہ کی پہچان ہو اور اس کی ایک ذمہ دار کمانڈ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ’پشاور میں رواں سال فروری میں کھلنے والے سرجیکل ہسپتال میں ساڑھے تین سو افراد کا علاج ہو چکا ہے، یہ تمام لوگ آرٹلری کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوئے تھے، یہ تمام زخمی ’وار وونڈڈ‘ کے زمرے میں آتے ہیں، یعنی کہ وہ جو جنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔ جن لوگوں کا علاج ہوا ہے وہ سارے پاکستانی تھے اور ان کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا جیسے کہ باجوڑ اور وزیرستان۔‘

آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اس مسلح تصادم کے نتیجے میں امداد کی طلب اور جو امداد دی جا رہی ہے اس میں بہت فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب میں امداد کی ضرورت اور مہیا کی جا رہی امداد میں فرق کی بات کرتا ہوں تو اس میں طبی امداد بھی ہے اور نقل مکانی کرنے والے افراد کو دی جانے والی امداد کے ساتھ ساتھ زیر حراست افراد کی صورتحال بھی شامل ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ آئی سی آر سی کو حکومت پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت پاکستان میں زیر حراست لوگوں تک رسائی حاصل ہے جن میں ’ہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے حوالے سے حراست میں لیے گئے افراد بھی شامل ہیں۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ہم پاکستان میں اس رسائی کو مزید وسیع کر سکیں گے۔

جیک ڈیمائر نے کہا کہ ’آئی سی آر سی نہ تو این جی اور ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ اور کسی بھی تصادم کے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں اور اسی بات چیت کی وجہ ہی سے ہمیں اس وقت ایسے علاقوں تک رسائی حاصل ہے جہاں کسی اور کو نہیں ہے جیسے کہ دیر، سوات اور قبائلی علاقے۔ اور ہم اس رسائی کو مزید وسیع کریں گے تاکہ جنگ سے متاثرہ لوگوں کی ضروریات پوری کرسکیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں جاری جنگ کی زد میں شہری اور وہ لوگ ہیں جو جنگ میں حصہ نہیں لے رہے ۔ ’شہریوں کے زخمی ہونے سے بات سے صاف ظاہر ہے کہ قبائلی علاقوں میں لڑی جانے والی جنگ میں جنگی قوانین کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاکستانی فوج بین الاقوامی جنگی قوانین کا خیال رکھ رہی ہے یا نہیں اس بارے میں ہم نے پاکستانی فوجی کمانڈروں اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کانفیڈینشل طور پر بات کی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جہاں آئی سی آر سی فوجی کمانڈروں کے ساتھ بات کر رہی ہے وہاں طالبان کے ساتھ بھی شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے بات کر رہی ہے۔ ’طالبان سے ہم یہ بات نہیں کر رہے ہیں کہ یہ جنگ جائز ہے یا نہیں لیکن ان سے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جنگی قوانین کا احترام کیا جائے۔‘

واضح رہے کہ بین الاقوامی جنگی قوانین کے مطابق شہریوں یا وہ لوگ جو جنگ میں حصہ نہیں لے رہے ان کو نشانہ نہ بنایا جائے اور اس کے علاوہ شہریوں اور شہری علاقوں کو ڈھال کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔