’مالاکنڈ آپریشن میں باون شدت پسند ہلاک‘

سکیورٹی اہلکار مالاکنڈ سے سوات کی جانب پیشقدمی کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکار مالاکنڈ سے سوات کی جانب پیشقدمی کر رہے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

فوج نے دعوٰی کیا ہے کہ صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران باون عسکریت پسند اور تین سکیورٹی اہلکار ہلاک گئے ہیں۔ جبکہ شدت پسندوں کے کئی مراکز کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ جھڑپوں میں چودہ سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم مقامی طالبان نے اپنے صرف چار ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ پانچ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوٰی بھی کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے پیر کو جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آپریشن راہِ حق‘ کے دوران سکیورٹی فورسز نے تحصیل کبل، توتانو بانڈہ، ڈیڈا خورہ، پیوچار، سر بانڈئی اور مٹہ میں تازہ کاروائیاں کرتے ہوئے تیس عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صدر مقام مینگورہ میں بھی مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں گیارہ عسکریت پسند ہلاک جبکہ دو سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایوب پل، قمبر اور خوازہ خیلہ میں کی گئی کارروائیوں میں آٹھ شدت پسند مارے گئے ۔ اس کے علاوہ جھڑپوں میں تین سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

سوات اور ملحقہ علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں شہریوں نے نقل مکانی کرکے خیمہ بستوں میں پناہ لی ہے
،تصویر کا کیپشنسوات اور ملحقہ علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں شہریوں نے نقل مکانی کرکے خیمہ بستوں میں پناہ لی ہے

سرکاری بیان میں مزید دعوٰی کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے خوازہ خیلہ تک سڑک کلیئر کردی ہے جبکہ بئینی بابا زیارت پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق سوات سے ملحقہ اضلاع دیر لوئر اور بونیر میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں جس میں شدت پسندوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اتوار کی رات سے جاری کارروائیوں میں اپنے چار ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے جوابی دعوے میں کہا کہ طالبان نے اپنے چار ساتھیوں کی ہلاکت کے بدلے میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو گلہ کاٹ کر ہلاک کردیا ہے۔ مقامی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ تحصیل مٹہ کے علاقے عالم گنج سے پانچ اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں جن کے سر تن سے جدا تھے۔

تاہم کسی سرکاری اہلکار سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

مسلم خان نے مزید دعوٰی کیا کہ اتوار سے ہونے والی بمباری میں زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سوات کے طالبان کا دعوٰی ہے کہ فوج عام شہریوں پر گولہ باری کر رہی ہے
،تصویر کا کیپشنسوات کے طالبان کا دعوٰی ہے کہ فوج عام شہریوں پر گولہ باری کر رہی ہے

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تحصیل کبل کے علاقے ڈاڈاہار میں جیٹ طیارے نے مومن خان نامی ایک شخص کے مکان کو نشانہ بنایا ہے جس میں نو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ البتہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک ہونے والے افراد کون تھے۔ بعض ذرائع کا کہنا کہ اس مکان میں طالبان نے پناہ لے رکھی۔ تاہم طالبان ترجمان اس کی تردید کی ہے۔

دوسری طرف سوات میں اتوار سے غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ ہے جسکی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد گھروں کے اندر محصور ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں گزشتہ چند دنوں سے بجلی کی ترسیل معطل ہے جسکی وجہ سے پانی کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینگورہ شہر اور آس پاس کے علاقوں میں بدستور ہزاروں لوگ گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ کرفیو کی وجہ سے وہ نقل مکانی نہیں کر سکتے۔