مالاکنڈ: ’مصیبت زدہ قرار دینے پر غور‘

حکومت نے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے ہیں: یوسف گیلانی
،تصویر کا کیپشنحکومت نے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے ہیں: یوسف گیلانی
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں مالاکنڈ کی صورتحال پر بحث کے دوران کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کو مصیبت زدہ قرار دے کر ٹیکس کی چھوٹ دینے پر غور کر رہی ہے۔

یہ بات انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کرکے مالاکنڈ کی صورتحال پر بحث کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کوخطرہ لاحق ہوگیا تھا اور شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی ناگزیر ہوچکی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان شدت پسند غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور وہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مٹھی بھر طالبان فوج سے نہیں لڑ سکتے اور بہت جلد انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیک نیتی کے ساتھ شرعی ریگولیشن نافذ کیا لیکن شدت پسندوں نے امن قائم نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ شرعی ریگولیشن کے بعد بھی شدت پسندوں نے سرکاری افسران اور سکیورٹی فورسز کو یرغمال بنایا، حملے جاری رکھے، پارلیمان، عدلیہ اور دیگر اداروں کی نفی کردی اور مختلف علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔ ایسے میں فوجی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی گروپ تشکیل دیا ہے۔ امدادی کاموں کے لیے فوکل پرسن کے طور پر وزیرِ اقتصادی معاملات حنا ربانی کھر ہوں گی جبکہ ذرائع ابلاغ کو معلومات وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ فراہم کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عالمی سطح پر امداد کی اپیل بھی کرے گی اور بہت جلد وزیراعظم فنڈ قائم کرکے عالمی امدادی کانفرنس بلائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوجی کارروائی سے پہلے مالا کنڈ ڈویزن کے منتخب اراکین کو اعتماد میں لیا اور ان کے خدشات کا ازالہ کیا۔ ان کے بقول ملک کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا اور ایسے میں سیاست سے بالا تر ہوکر سوچنا پڑے گا کیونکہ ملک ہوگا تو سیاست بھی ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ فوجی آپریشن مستقل حل نہیں ہے بلکہ حالات قابو میں آنے کے بعد فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فعال بنایا جائے گا اور انہیں بم پروف گاڑیوں سمیت جدید آلات دیے جائیں گے تاکہ وہاں وہ حکومتی رٹ قائم رکھ سکیں۔

مالاکنڈ کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت امریکہ کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد کی خاطر اقدامات کرے اور اس بارے میں تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے حکومت کو اہم معاملات میں مشاورت نہ کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ صدر کے واشنگٹن کے دورے کے موقع پر حکومت نے آپریشن شروع کرکے انہیں خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔

حکومتی اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمٰن نے مالاکنڈ میں فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جس پر وزیراعظم انہیں منا کر واپس ایوان میں لائے اور انہیں یقین دلایا کہ آئندہ انہیں اعتماد میں لے کر حکومت فیصلہ کرے گی۔ وزیراعظم نے چوہدری نثار علی خان اور دیگر کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پارلیمانی لیڈرز کو بند کمرے کی بریفنگ دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے قومی کانفرنس بلانے کی تجویز کی بھی حمایت کی اور اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ فوج کی اخلاقی مدد کے لیے آپریشن کے بارے میں مثبت رائے دیں۔