نقلِ مکانی کرنے والوں کی تعداد تیرہ لاکھ

نقل مکانی
،تصویر کا کیپشنخواتین نے بڑی تعداد نے کیمپوں تک رسائی کا سفر پیدل طے کیا
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سوات اور مالاکنڈ کے جنگ سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد تیرہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے جس کے ساتھ ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات میں بھی تیزی آ رہی ہے۔

سرحد حکومت کے متعلقہ ادارے کے ترجمان کے مطابق صرف سوات کے بعض علاقوں سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ تعداد تیز رفتاری سے بڑھنے کا خدشہ ہے۔

نقل مکانی پر مجبور افراد کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے پارٹنر ادارے سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے ترجمان آفتاب احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات کے کرفیو میں گزشتہ روز ہونے والی نرمی کے بعد مختلف کیمپوں میں رات گئے تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچے جس کے باعث اردگرد کے علاقوں میں قائم تمام کیمپوں میں جگہ ختم ہونے کے بعد انہیں بند کرنا پڑا۔

آفتاب احمد کا کہنا تھا کہ ان کیمپوں میں اب تک اس مجموعی تعداد کے صرف پندرہ فیصد افراد ہی کو بسایا جا سکا ہے جس کے بعد وہاں گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے آنے والے افراد کی رجسٹریشن کے لیے اڑتیس مقامات پر ڈیسک بنائے گئے ہیں۔ جبکہ بے گھر ہونے والے افراد کو جلوزئی اور دیگر کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں گنجائش تو ہے لیکن سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں سے ہر روز اتنی بڑی تعداد میں لوگ ان کیمپوں میں پہنچ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیادوں پر نئے کیمپ بنائے جا رہے ہیں۔

اس بے سرو سامانی کی صورتحال پر قابو پانے میں حکومت پاکستان کی مدد کے لیے برطانوی حکومت نے لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کے لیے ایک کروڑ پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کیا ہے جب کہ مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے ایک ہوائی جہاز سوات اور مالاکنڈ کے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے خیموں کی تعمیر کے لیے ضروری سامان لیکر دبئی سے اسلام آباد پہنچا ہے۔

ان وسائل کے درست اور فوری استعمال کے لیے پاک فوج نے ایک خصوصی سپورٹ گروپ قائم کیا ہے جسے امدادی سامان کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اس نئے ادارے کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ بے گھر ہونے والے افراد کا المیہ اتنا گمبھیر ہو چکا ہے کہ کسی ایک ادارے کے لیےن اسے سنبھالنا ممکن نہیں ہے۔

اس گروپ کے برگیڈئر عامر نے بتایا کہ لڑائی سے متاثرہ علاقے کے باہر ٹرک دستیاب ہیں جو وہاں سے نکلنے والے لوگوں کو کیپموں تک لے جانے کے لیے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی والے علاقوں میں بھی ہنگامی صورتِ حال میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لوگوں کو نکالا جاسکتا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مرکزی دفتر جینیوا سے جاری ہونے والے ایک اعلان میں اقوام متحدہ کے ادارے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دبئی سے اسلام آباد پہچنے والے امدادی جہاز میں خیموں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی پلاسٹک شیٹس، مچھر دانیاں اور دیگر ضروری سامان موجود ہے جو فوری طور پر پشاور پہنچایا جائے گا جہاں سے اسے کیمپوں میں تقسیم کرنے کے لیے بھجوا دیا جائے گا۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق سوات اور ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے بیشتر افراد خواتین اور بچوں کے ہمراہ یا تو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور یا سکولوں اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری عمارات میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

'ان افراد کو مناسب مقامات تک پہنچانے اور ان کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے یو این ایچ سی آر نے متعدد ٹیمیں تشکیل دی ہیں‘۔

اعلان میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی فراخدلی سے مدد کرنے والے پاکستانی اپنے گھروں سے بے دخل ہوچکے ہیں جنہیں مدد کی اشد ضرورت ہے۔

خوراک کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایف پی نے بھی ان بے گھر افراد کے لیے اپنی امداد دگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نقلِ مکانی کرنے والی خواتین
،تصویر کا کیپشننقلِ مکانی کرنے والی خواتین

عالمی ادارۂ خوارک کے اسلام آباد دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس ادارے کے ذریعے سوات کے متاثرہ علاقوں سے آنے والے دو لاکھ افراد کو خوراک فراہم کی جا رہی تھی لیکن اس تعداد میں اضافے کے باعث اس آپریشن میں وسعت کی ضرورت ہے۔

ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد کی بڑھتی تعداد کو خوراک فراہم کرنے کے لیے اس ادارے کو زیادہ سے زیادہ اور فوری امداد دی جائے۔

عالمی ادارۂ خوراک کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والے بیشتر افراد جلدی میں بے سر و سامانی کے عالم میں اپنے گھروں سے نکلے ہیں اور ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔