سوات: صحافیوں کو جانے کی اجازت دیں

مالکان بیدخل ہونے والے اپنے نمائندوں کے لیے مردان، پشاور اور اسلام آباد میں نہ صرف رہائش کا بندوبست کریں
،تصویر کا کیپشنمالکان بیدخل ہونے والے اپنے نمائندوں کے لیے مردان، پشاور اور اسلام آباد میں نہ صرف رہائش کا بندوبست کریں
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کی صحافتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سوات میں جاری فوجی کارروائی کی حقیقی صورتحال جاننے کے لیے صحافیوں کو وہاں جانے کی اجازت دی جائے۔

یہ مطالبہ منگل کو خیبر یونین آف جرنلسٹس محمد ریاض، پشاور پریس کلب کے صدر شمیم شاہد، سوات اور بونیر یونین آف جرنلسٹس کے رہنماؤں رشید اقبال اور میاں باچا ترمذی نے پشاور پریس کلب میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت فوجی کارروائی کے متعلق خبروں کی ترسیل کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور وہاں پر مکمل ’بلیک آوٹ‘ ہے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ معلوم نہیں ہورہا ہے کہ اس وقت سوات میں کیا ہو رہا ہے اور وہاں پر شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی اصلی تعداد کتنی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوات کی اندرونی صورتحال سے متعلق جاننے کے لیے وہاں سے نقل مکانی کرنے والے صحافیوں کی واپسی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی انجام دہی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے ٹی وی چینلز اور اخباری مالکان سے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہاں سے بیدخل ہونے والے اپنے نمائندوں کے لیے مردان، پشاور اور اسلام آباد میں نہ صرف رہائش کا بندوبست کریں بلکہ ٹرانسپورٹ الاؤنس، کرائے اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی میں بھی ان کی مالی معاونت کریں۔ ان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ان صحافیوں کی بیمہ کروانے کے ساتھ ساتھ انہیں لائف سیونگ جیکسٹس بھی مہیا کی جائیں۔

صحافی رہنماؤں نے حکومت سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ بیدخل ہونے والے صحافیوں کی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے وزیر اعلٰی فنڈ سے رقم مہیا کریں اور ان کے بچوں کی تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے میں ان کی معاونت کریں۔

متاثرہ صحافیوں نے صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیموں کمیٹی فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس، رپوٹرز ود آؤٹ بارڈر، انٹر نینشل فیڈریشن آف جرنلسٹس، دوھا پریس فریڈم سنٹر، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے بھی مدد کی اپیل کی ہے۔

ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جاری فوجی کارروائی کی وجہ سے سوات سے تینتیس صحافیوں اور بونیر سے سات صحافیوں نے نقل مکانی کی ہے۔ مخیر حضرات اور این جی اوز سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ صحافیوں کی آباد کاری میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کی مدد کریں۔

یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل سوات کے صدر مقام مینگورہ سے اردو میں شائع ہونے والے پانچ مقامی اخبارات نے اپنی اشاعت عارضی طور پر بند کر دی تھی۔