کراچی: بارہ مئی کو عام تعطیل،خاموشی

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی میں دو سال پہلے بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقع پر ہنگامے میں ہلاک ہونے والے چالیس کے قریب افراد کی یاد میں سیاسی جماعتوں نے یوم سوگ منایا۔ اے این پی اور ایم کیو ایم نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے عام تعطیل کے اعلان کے بعد انہوں نے یہ واپس لے لیا تھا۔
شہر پر خوف کے بادل ایک روز پہلے ہی امڈ آئے تھے جب پولیس نے شہر میں ہائی الرٹ کا اعلان کیا تھا اور رینجرز نے سازو سامان کے ساتھ گشت شروع کردیا، چھٹی کے اعلان کے باوجود صبح سے بازار اور نجی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کافی کم رہا اور لوگوں نے خود کو گھروں تک محصور رکھا۔
عام طور پر چھٹی کے دنوں میں تفریحی مقامات پر لوگوں کا رش رہتا ہے مگر منگل بارہ مئی کو سنیما گھر بند اور تفریحی مقامات ویران رہے۔ مزدور پیشہ افراد بغیر کسی رنگ و نسل کے شہر میں جاری ہنگاموں اور ہڑتالوں سے پریشان نظر آئے۔
علی جان ٹھیلے پر ہر مال بیس روپے میں فروخت کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان ہڑتالوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے ’آج روزی بند ہے جس وجہ سے دال روٹی میسر نہیں ہے۔‘ ان کے ساتھ موجود ان کے ساتھی کا کہنا تھا کہ جن کے پاس پیسے ہوتے ہیں وہ لوگوں کو مارتے ہیں وہ پارٹی میں بھی ہوتے ہیں مزدور لوگ تو کسی تو نہیں مارتے۔
محمد بشیر گنے کا رس بیچتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ روز ہڑتال کرنا، لوگوں کو مارنا اور گاڑیوں کو جلانا بے وقوفی ہے، ایک دوسرے کو مارنا کون سی مسلمانی ہے۔
عمران احمد ایک فوٹو شاپ پر کام کرتے ہیں اور صدر میں اپنی دکان کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ساری سیاست دانوں کی کہانی ہے جس میں بیچاری عوام پِس رہی ہے، روزی کمانے والے لوگ ہیں بس اب بیٹھے ہوئے ہیں۔‘ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاھ نے پولیس اور رینجرز حکام کے ساتھ شہر کا دورہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ ملک اور شہر کے بہتر مفاد کے لیے عام تعطیل کا اعلان کیا گیا، جسے تمام لوگوں نے سراہا ہے۔ '’اگر ہڑتال ہوتی تو اس میں کافی خون خرابے کا خطرہ تھا حکومت کا فرض ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرے جس وجہ سے ہی چھٹی کی گئی ۔‘
انہوں نے تسلیم کیا کہ بارہ مئی کے واقعہ کی تحقیقات میں تاخیر ہوئی ہے مگر انہوں نے جوڈیشل انکوائری کے مطالبات کو مسترد کیا اور کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کراچی میں کسی آپریشن کے امکان کو بھی رد کیا۔
گزشتہ شب وزیراعلیٰ ہاؤس میں تینوں اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے مشترکہ اجلاس میں شہر کا امن امان برقرار رکھنے پر اتفاق کیاگیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تینوں جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پروگرام منعقد کیے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے کارکنوں کو قومی جھنڈے لہرانے اور اے این پی کی جانب سے کارکنوں کو سیاہ جھنڈے لگانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
سیاسی جماعتوں سے زیادہ بارہ مئی کو ہلاک ہونے والے چالیس افراد کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کو اس روز اشکبار آنکھوں سے یاد کیا، متاثرین کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔
اس روز ہلاک ہونے والوں میں اٹھائیس سالہ شیخ فیصل بھی تھے جنہیں سٹار گیٹ پر ایمبولینس کے اندر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا، ان کے چچا شیخ طلحہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
’ شاہراہ فیصل فوجی چھاونی کا علاقہ ہے جس وقت یہ قتل عام ہو رہا تھا تو اس وقت فوج نے آکر اسے آخر کیوں نہیں روکا؟ اس وقت کے آرمی چیف اور صدر جنرل پرویز مشرف جنہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے قوت کا اظہار کیا اس بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ بنتا ہے‘۔
ملک بھر کی عدالتوں میں وکلا نے اس روز کو یوم سوگ کے طور پر منایا اور کئی شہروں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا سندھ میں تعطیل ہونے کی وجہ سے وکلا ایک روز بعد یعنی بدھ تیرہ مئی کو یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ لاہور میں وکلا سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے خطاب کیا اور کہا کہ ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے جو اس واقعہ کے ذمے دار ہیں ۔
یاد رہے کہ دو سال پہلے معزولی کے بعد بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جب کراچی آرہے تھے کہ تو انہیں ائرپورٹ پر محصور کردیا گیا تھا اور ان کے استقبال کے لیے جانے والے جلوسوں پر حملے اور فائرنگ ہوئی جس کے بعد شہر کو ہنگامہ آرائی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چالیس افراد اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے۔






















