تیل کی قیمتیں کم کریں: چیف جسٹس

مظاہرہ
،تصویر کا کیپشنپیڑولیم مصنوعات میں ٹیکسوں کی آڑ میں کروڑوں روپے کاخرد بُرد کیا جا رہا ہے: چیف جسٹس
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبی جا رہی ہے اور حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کما رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت خود ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردے ورنہ پھر سپریم کورٹ کو اس ضمن میں حکومت کو ہدایات دینا پڑیں گی۔

یہ ریمارکس چیف جسٹس افتخار چوہدری نے منگل کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے متعلق کمیشن کی طرف سے پیش کی جانے والی عبوری رپورٹ کی سماعت کے دوران دیے۔

انہوں نے کہا کہ پیڑولیم مصنوعات میں ٹیکسوں کی آڑ میں کروڑوں روپے کاخرد بُرد کیا جا رہا ہے اور حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کما رہی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے متعلق درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے علاوہ جسٹس راجہ فیاض اور چوہدری اعجاز شامل تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کمیشن کی تشکیل کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم ہونے والے کمیشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری مناسب کمی کی سفارش کی ہے۔

کمیشن کی عبوری رپورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں مختلف ٹیکسوں میں کمی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافے کا اختیار آئل کمپنی ریگولیٹری کمیٹی کو دینا خلاف قانون ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ٹیکس ریگولیشن میں ترمیم کر کے اس کا اختیار آئل کمپنی ریگولیٹری کمیٹی کو دے دیا گیا تھا۔

درخواست گذاروں کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافے کی مد میں غریب عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے لیکن حکومت نے اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بیس فیصد تک کمی کی جائے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سی این جی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ سے لگتا ہے کہ حکومت اور تیل کی کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات پر لگائے گئے ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کما رہی ہیں۔

عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئل ریفائنری سے تیل کی سپلائی غیر معیاری ہے جبکہ اس مد میں اعلٰی معیار کے تیل کی سپلائی کے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئل ریفائنری کی مد میں جو پندرہ ارب روپے رکھے گئے ہیں وہ واپس لے کر سماجی شعبے میں خرچ کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکومت کب تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے گی جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے اس ضمن میں ایک دن کی مہلت طلب کرلی۔ عدالت نے اس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے متعلق درخواستیں سنہ دوہزار پانچ میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں تھیں ۔یہ درخواستیں پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر رخسانہ زبیری نے دائر کی تھیں۔