شوکت ملزمان شک کی بناد پر بری

شوکت عزیز
،تصویر کا کیپشنشوکت عزیز کواٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز پر سنہ دوہزار چار میں ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تین ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔

ان میں مولوی امتیاز، محمد عثمان اور نذیر عرف اسامہ شامل ہیں۔ عدالت نے ان افراد کو اسی مقدمے میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں ایک ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

منگل کے روز اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو ملزمان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے مؤکلوں کو دو سال سے زائد عرصے سے گرفتار کر رکھا ہے لیکن اُن کے خلاف کوئی بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود استعاثہ اُن کے مؤکلوں کے خلاف کوئی بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکی جس سے یہ معلوم ہوتا کہ ملزمان سابق وزیر اعظم شوکت عزیز پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث ہیں۔

عدالت نے استغاثہ سے کہاکہ ان ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہیں تو اُنہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ تاہم استغاثہ کی طرف سے کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہ کرنے پر عدالت نے اُنہیں بری کردیا۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر تیس جولائی دو ہزار چار کو اٹک کی تحصیل فتح جنگ میں اُس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب وہ ضمنی انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم کے بعد واپس آرہے تھے۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک اور اڑتالیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس نےاس مقدمے کی تفتیش میں دس افراد کو گرفتار کیا تھا اور اس مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے بائیس مئی دو ہزار چھ میں تین افراد پر جُرم ثابت ہونے پر اُنہیں موت کی سزاسنائی تھی ان میں قاری احمد خان، مولوی صدیق اور نوربادشاہ شامل ہیں جبکہ تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سُنائی تھی ان میں نثار احمد، عبدالباسط اور عبدالمنعم شامل ہیں جبکہ محمد سلیمان کو دس سال قید کی سزا سُنائی گئی تھی۔

مجرموں نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

اُدھر ممبئی حملوں کی سازش میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت وکلاء کی طرف سے ہڑتال کے باعت نہیں ہوسکی۔

گرفتار ہونے والے افراد میں ذکی الرحمٰن لکھوی، حماد امین صادق، مظہر اقبال، عبدالواجد اور شاہد جمیل شامل ہیں۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 23 مئی تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر اس بات کا امکان ہے کہ ملزمان کے خلاف فرد جُرم عائد کی جائے گی۔