کرفیو اور کھانے کی اشیاء کی شدید قلت

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں پچھلے تین دنوں سے جاری مسلسل کرفیو کی وجہ سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور کئی گھرانے ایک وقت کے کھانے پر گزارہ کررہے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مینگورہ شہر میں گزشتہ نو دنوں سے کرفیو نافذ ہے جس میں اب تک صرف دو دنوں کے لیے کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرفیو کی وجہ سے تمام بازار اور تجارتی مراکز کئی دنوں سے بند ہیں جس سے علاقے میں خوراکی مواد کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق کئی گھرانے خوراکی مواد کی کمی کے باعث ایک وقت کھانا اور لوکاٹ کھا کر گزارہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی کئی گھرانے علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں اور کرفیو کی وجہ سے نقل مکانی نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق شہر میں کئی دنوں سے بجلی، پانی اور گیس کی سپلائی بھی معطل ہے جس سے لوگوں کے مشکلات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔
ادھر آپریشن کی وجہ سے سوات کے بالائی علاقے کالام ، بحرین اور میاندم میں بھی ہزاروں افراد گھروں کے اندر محصور ہیں۔ میاندم کے ایک باشندے عثمان غنی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو فون پر بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے ان کا مینگورہ اور قریبی علاقوں سے رابط کٹا ہوا ہے اور علاقے میں ٹیلی فون اور موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالائی سوات کے تمام مقامات پر کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالام سے لے کر مینگورہ تک تمام سڑکیں اور بازار بند ہیں جس سے کچھ اندازہ نہیں ہورہا کہ علاقہ میں کیا ہورہا ہے۔
دوسری طرف سوات کے طالبان نے تبیلغی جماعت سمیت پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت یا مخالفت کے حوالے سے اپنا مؤقف ظاہر کرے اور ان کی حمایت یا مخالفت کا واضح طورپر اعلان کرے۔
طالبان ترجمان حاجی مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شریعت کے نفاذ کے لیے تحریک کا آغاز کیا تھا اس لیے اس سلسلے میں مذہبی جماعتوں کو طالبان کی حمایت یا مخالفت کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کردینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینٹ کو فوری طور پر اپنے عہدوں سے استعفٰی دینا چاہیے اور واپس اپنے اپنے علاقوں میں آنا چاہیے بصورت دیگر ان کے رشتہ داروں کو نشانہ بنایا جائے گا اور ان کے املاک کو بھی تباہ کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ سوات سے نقل مکانی کرنے والے افراد واپس آکر خوازہ خیلہ سے کالام تک قائم تمام ہوٹلز اور سرکاری املاک کو مفت استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ طالبان کی طرف سے انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ حکومت بھی ان علاقوں میں کارروائیاں نہ کریں جبکہ طالبان اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ نقل مکانی کرنے والے افراد کو کچھ نہیں کہے گی۔
ادھر دوسری طرف مالاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کی وجہ سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب تک جنگ زدہ علاقوں سے تیرہ لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
حکومت نے متاثرین کےلیے مالاکنڈ کے قریب واقع اضلاع مردان اور صوابی میں عارضی کیمپ بنائے ہوئے ہیں۔ تاہم بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے باعث مزید کیمپ بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔






















