گٹ پیوچار:طالبان کا گڑھ کیسے بنا؟

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ دو دن کے آپریشن کے بعد انہوں نے سوات کے طالبان کے اہم گڑھ گٹ پیوچار کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ گٹ پیوچار وہی جگہ ہے جہاں چند دن قبل فوج کے چھاتہ بردار دستوں کو ہیلی کاپٹروں سے اتارا گیا تھا۔
لیکن یہ علاقہ سوات کے طالبان کا اہم مرکز کب اور کیسے بنا؟
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان کا مضبوط ہیڈکواٹر سمجھے جانے والا پہاڑی علاقہ گٹ پیوچار اسی کی دہائی سے شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کا مسکن رہا ہے۔
صدر مقام مینگورہ کے شمال میں تقریباً پنتیس سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ خوبصورت وادی شوور کا حصہ ہے جو کئی چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلوں اور گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔
تحصیل مٹہ کے حدود سے تقریباً پندرہ بیس کلومیٹر کے دوری پر واقع گٹ اور پیوچار دو الگ الگ علاقے ہیں جو پہاڑوں کے دامن میں تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں علاقے یونین کونسل شوور اور یونین کونسل گوالیری کا حصہ ہے۔ یہاں اکثریت گجر اور سید خاندان آباد ہیں جو اس علاقے کے با اثر افراد سمجھے جاتے ہیں۔
اس پہاڑی علاقے میں شدت پسندوں کی آمد اسی کی دہائی میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے حصول کےلیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔
سنہ انیسو چورانوے میں جب مولانا صوفی محمد کے حامیوں نے مالاکنڈ میں سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنایا تو حکومت نے ٹی این ایس ایم کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا اور اس دوران تحریک کے کئی اہم کمانڈروں نے گرفتاری سےبچنے کے لیے گٹ پیوچار کے پہاڑوں میں پناہ لی تھی۔ ان دنوں ان پہاڑی علاقوں کے کئی با اثر افراد نے صوفی محمد کی حمایت کا اعلان کرکے ان کی تحریک میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ انہوں نے اس وقت پناہ لینے والے ٹی این ایس ایم کے کارکنوں کی ہر قسم کی معاونت کی تھی۔
سوات میں دو ہزار آٹھ میں جب سکیورٹی فورسز کی طرف سے مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت آئی تو طالبان کے تمام اہم رہنما اور کمانڈر مٹہ، کبل اور خوازہ خیلہ چھوڑ کر گٹ پیوچار کی طرف منتقل ہوگئے۔ بعدازاں طالبان نے یہاں پر اپنا ہیڈ کواٹر قائم کرلیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے گٹ پیوچار میں کئی مراکز بھی قائم کیے ہوئے ہیں جہاں وہ نئی بھرتی ہونے والے افراد کو تربیت دیتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس علاقے سے سوات میں طالبان کی تمام سرگرمیوں اور کاررائیوں کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ پہاڑی اور دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے یہ وادی طالبان کےلیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طورپر کام کرتا رہا ۔
اس کے علاوہ یہ مقام ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کا مسکن بھی رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سوات میں قتل، بینک ڈکیتی ، چوری اور دیگر جرائم میں ملوث زیادہ تر افراد گٹ پیوچار بھاگ کر پناہ لیتے تھے۔ تاہم طالبان کے آنے کے بعد جرائم پشیہ افراد یہ علاقہ چھوڑ کر دوسرے جگہوں پر منتقل ہوگئے تھے۔
گٹ پیوچار گھنے جنگلات پر بھی مشتمل ہے اور یہاں کا موسم گرمیوں میں بڑا خوشگوار ہوتا ہے۔ اس کی سرحدیں دیر کے علاقے نہاگ درہ سے ملتی ہیں۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے پولیس کے لیے ’نو گو ایریا‘ رہا ہے۔ تاہم طالبان کے آنے سے یہاں پر ان کا مکمل طور پر قبضہ ہوگیا تھا۔
ادھر تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دو دن کے آپریشن کے بعد گٹ پیوچار پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ چند دن قبل فوج کے چھاتہ بردار دستوں کو ہیلی کاپٹروں سے گٹ پیوچار میں اتارا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز لڑاکا طیاروں نے بھی پیوچار میں طالبان کےٹھکانوں پر بھر پور بمباری کی تھی۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ طالبان نے تین دن پہلے گٹ پیوچار خالی کرکے وہاں سے چلے گئے تھے۔
طالبان ترجمان حاجی مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گٹ پیوچار خالی کرنے کی تو تصدیق نہیں کی البتہ انہوں نے کہا کہ بمباری کے خوف سے علاقہ تو پہلے ہی لوگ خالی کر کے وہاں سے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیوچار میں کوئی لڑائی نہیں ہو رہی بلکہ اصل جنگ تو مانڑی سر کبل تحصیل میں جاری ہے جہاں فریقین آمنے سامنے لڑ رہے ہیں۔ مسلم خان کی باتوں سے بظاہر لگ رہا تھا کہ طالبان اپنا ہیڈ کوارٹر چھوڑ کر دوسرے جگہ منتقل ہوچکے ہیں۔






















