’ہفتے میں تیل کی قیمتیں کم کریں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملکی کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے۔
انہوں نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمیتوں میں کمی کرنے کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کروانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایات جاری کیں کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے علاوہ قدرتی گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں بھی کمی کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے جو ملک میں موجود ہیں اور اُن کی موجودگی سے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مشیر پیٹرولیم ملک کے اندر موجود ہیں کہ نہیں۔
عدالت نے پیٹرولیم کی قیمیتوں میں کمی کے حوالے سے جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس کی سربراہی میں بنائے جانے والے کمیشن سے کہا ہے کہ وہ پندرہ جون تک اپنی جامع رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اگر حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے میں ناکام رہی تو پھر سپریم کورٹ قیمتوں میں کمی کے بارے میں فیصلہ کرے گی جو ہوسکتا ہے کہ حکومت کو ناگوار گذرے۔
اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ آخری مرتبہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی یکم دسمبر سنہ دوہزار آٹھ کو کی گئی تھی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو تیس جون تک کا وقت دیا جائے تاکہ وہ پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کرنے کے علاوہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری بھی کر سکیں۔ اس پر افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ابھی تک کوئی بھی وکیل وفاق کی طرف سے ان درخواستوں کی پیروری کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ تمام جمہوری اداروں کو مؤثر طریقے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر کے غلط بیان کی وجہ سے مالکان کی جانب سے سی این جی کی قمیتوں میں چار روپے کا اضافہ کردیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج تک قدرتی گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی حالانکہ قدرتی گیس ملک سے ہی نکالی جاتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے وہاں سے بےگھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال کےلیے اضافی مال بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
درخواست گذار اقبال ظفر جھگڑا کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے تقریبا اُتنے پیسے ہی وصول کیے جا رہے ہیں جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمیت 147 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھی۔
وفاقی سیکریٹری پیٹرولیم محمود سلیم محمود اور سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ اُنہیں جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس کی سربراہی میں بنائے جانے والے کمیشن کی عبوری رپورٹ منگل کے روز ملی ہے لہذا وہ وزیر اعظم سے ملاقات کرکے اُنہیں اس کے متعلق آگاہ کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے قبل بہت سے کمیشن بنائے گئے لیکن یہ کمیشن سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اُٹھانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ان درخواستوں کی آئندہ سماعت کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد کی جائے گی۔






















