’معافی نامہ عدالت کے سامنے لائیں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ کے جج جسٹس تصدق حسین جیلانی نےمیاں نواز شریف کے وکیل عابد حسن منٹو سے کہا کہ اگر اُن کے پاس ان کے مؤکل کو سابق صدر کی طرف سے دی جانے والی معافی کی دستاویزات موجود ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔
جسٹس تصدق حسین نے درخواست گذار کے وکیل سےاستفسار کیا کہ عدالت کے پاس سابق صدر کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سزا معاف کرنے کے متعلق دستاویز موجود نہیں ہیں اس لیے عدالت اس کے شرائط کی پڑتال کیسے کرسکتی ہے۔
یہ ریمارکس انہوں نے بدھ کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے میاں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں ملنے والی سزاکے خلاف نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
انہوں نے درخواست گزار میاں نواز شریف کے وکیل عابد حسن منٹو سے کہا کہ اگر اُن کے پاس معافی نامے کی دستاویزات موجود ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔
درخواست گذار کے وکیل نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب صدر کی طرف سے سزا معاف کردی جاتی ہے تو پھر اس کے اثرات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن قوانین کی موجودگی میں خرم شاہ اور نور الٰہی کو میاں نواز شریف کی اہلیت کے متعلق درخواستیں دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں جس میں میاں نواز شریف کو خرم شاہ اور نور الٰہی کی درخواستوں پر نااہل قرار دیا تھا، کوئی بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے گئے تھے۔
عابد حسن منٹو نے کہا کہ اُن کے مؤکل کے خلاف فیصلہ پی سی او ججوں کو تسلیم نہ کرنے اور اُن کے سامنے پیش نہ ہونے کی بنا پر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں اُن نکات کا بھی ذکر کیا ہے جس کا ذکر لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں بھی نہیں کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس پر بینچ میں شامل جسٹس موسٰی کے لغاری نے کہا کہ اُن کی سربراہی میں بننے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ عدالت میں پیش نہ ہونے کی بناء پر نہیں دیا بلکہ اس کی اور بھی وجوہات تھیں۔
واضح رہے کہ جسٹس موسٰی کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ اگرچہ سابق صدر نے میاں نواز شریف کی سزا کو معاف کردیا تھا لیکن جُرم ابھی تک موجود ہے اور جب تک عدالت اس کو ختم نہ کرے اُس وقت تک یہ جُرم ختم نہیں ہوسکتا۔
عابد حسن منٹو نے کہا کہ اُن کے مؤکل کے خلاف سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے طیارے کو اغوا کرنے کا مقدمہ ایک سازش کے تحت قائم کیا گیا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت اور سندھ ہائی کورٹ نے بھی اس مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا۔






















