طالبان کے ہیڈکواٹر پیوچار پر فضائی حملے

شہریوں کو بچانے کے لیے شدت پسندوں کی آبادی سے دور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا: فوج
،تصویر کا کیپشنشہریوں کو بچانے کے لیے شدت پسندوں کی آبادی سے دور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا: فوج
    • مصنف, عبدا لحئ کاکٹر اور رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے دسویں روز فوج نے گٹ پیوچار میں طالبان کے ہیڈکواٹر اور مینگورہ شہر میں ان عمارتوں پر جہاں طالبان نے مورچے بنا رکھے ہیں فضائی حملے کیئے ہیں۔

<link type="page"><caption> نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تیرہ لاکھ ہو گئی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090512_displaced_number_sen.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> گٹ پیوچار میں چھاتہ بردار فوجی اتار دیئے گئے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090512_ispr_presser_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

سوات سے مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور اس دوران شہری ہلاکتیں ہونے کی بھی خبریں مل رہی ہیں۔

مینگورہ سے دو کلو میٹر دور کوگاری کے علاقے میں بدھ کی صبح ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور ایک کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔

مینگورہ اور گٹ پیوچار پر فضائی بمباری کے نتیجے میں بھی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے تاہم اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی ہے۔

فوجی آپریشن سے متاثرہ علاقے سے شہریوں کے انخلاء کا سلسلہ جاری ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک اس علاقے سے تیرہ لاکھ افراد محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے انخلاء نے ایک بحرانی کیفیت اختیار کر لی ہے۔

سوات سے لوگوں کے انخلاء کو گزشتہ پندرھ برس میں دنیا بھر میں سب سے بڑی انسانی ہجرت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کی اور ان سے فوری امداد کی اپیل کی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سوات کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان کو امداد مہیا کرنے کا یقین دلایا۔

تاہم انہوں نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے کہا کہ اس فوجی آپریشن میں شہریوں کو تحفظ مہیا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سوات، مینگورہ اور دیگر علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ ہے جس وجہ سے وہاں سے شہریوں کو نکلنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس علاقے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے جانے پر مکمل پابندی عائد ہے جس وجہ سے وہاں سے خبروں کے حصول میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

گزشتہ روز فوج کےحکام نے صوبہ سرحد کے تین اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی میں مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد ساڑھے سات سو بتائی ہے۔ البتہ طالبان کے ترجمان نے بارہ ساتھی ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز کو انتیس افراد کا جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ ستتر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ شدت پسند اب فرار کی راہ اپنا رہے ہیں۔ طالبان ترجمان مسلم خان کے بقول سوات کا صدر مقام مینگورہ منگل کی شام تک طالبان کے قبضے میں تھا اور ان کے جنگجو جگہ جگہ پر مقابلہ کر رہے تھے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ بدھ کے روز فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سوات میں جاری جھڑپوں کے دوران گزشتہ چویس گھنٹوں میں گیارہ شدت پسند اور چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ منگورہ کے قریبی علاقوں سے پانچ افراد کی سر کٹی لاشیں ملی ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے حکام نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے گیارہ شدت پسندوں میں سے ایک اہم شدت پسند نصیب رحمان شامل ہے۔ اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جھڑپیں ضلع سوات کے کن مقامات پر ہوئی ہیں ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سوات کے مختلف مقامات پر جھڑپوں کے دوران چار فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق پیوچار کے علاقے میں منگل کو رات کے وقت شدت پسندوں کے اڈوں پر شدید حملوں کے بعد فوج نے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہیں جبکہ دیگر مقامات جیسے بنائی بابا زیارت اور بریم بریج پر پوزیشن لی جا رہی ہے۔

اس بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ خوازہ خیلہ سے بریام بریج تک کا علاقہ اور چکدرہ گل آباد روڈ شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔ اس دوران شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایک فوجی ہلاک ہو ئے ہیں۔ حکام کے مطابق منگورہ اور اس کے مضافات میں پانچ سر کٹی لاشیں ملی ہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ لاشیں کن لوگوں کی تھیں۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بونیر میں صورتحال معمول پر آگئی ہے لوگوں نے فصلوں کی کٹائی شروع کر دی ہے جبکہ دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔ اس وقت سلطاناوس کی طرف پیش رفت کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔