درہ آدم خیل: جھڑپ میں چار جنگجو ہلاک

لڑائی میں طالبان کے ایک مرکز کو بھی تباہ کیا گیا: سرکاری اہلکار
،تصویر کا کیپشنلڑائی میں طالبان کے ایک مرکز کو بھی تباہ کیا گیا: سرکاری اہلکار
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین ہونے والی ایک جھڑپ میں چار طالبان ہلاک اور دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

درہ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح درہ بازار میں ملاخیل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز نے مشتبہ طالبان کے ایک مرکز پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

کوہاٹ کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں چار طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے جبکہ دو سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی میں طالبان کے ایک مرکز کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا کہ سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کو ایک مکان میں گھیرے میں لیا ہوا تھا اور اس دوران فریقین کے مابین فائرنگ کا تبادلہ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے وقت کوہاٹ درہ آدم خیل سڑک اور کوہاٹ ٹنل کو ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کردی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے تمام بازار اور تجارتی مراکز بند ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں ایک اور واقعہ میں نامعلوم مسلح افراد نے درہ آدم خیل میں لڑکوں کے ایک اور ہائی سکول دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔

درہ آدم خیل کے ایک اعلٰی اہلکار نے بتایا کہ آخوروال کے علاقے میں قائم لڑکوں کے ہائی سکول کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نشانہ بنایا گیا جس سے عمارت مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔

درہ آدم خیل میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لڑکوں کے کل پانچ سرکاری ہائی سکولوں میں سے چار کو اب تک نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں درہ آدم خیل میں انگریزوں کے دور کا سب سے بڑا ہائی سکول بھی شامل ہے۔

چند دن قبل درہ آدم خیل میں ایف سی کی ایک چیک پوسٹ کو کاربم خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد درہ آدم خیل میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔