’فضائی کارروائی، تیاریاں مکمل‘

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
مالاکنڈ ڈویژن میں طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرنے کے لیے پاک فضائیہ نےتیاریاں مکمل کر لی ہیں اور گزشتہ چند دنوں میں گٹ پیوچار اور مینگورہ میں فضائی حملوں کو اس بڑی فضائی کارروائی کا نکتہ آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔
ذارئع کے مطابق مینگورہ اور گٹ پیوچار میں ہونے والی بمباری میں ’لیزر بموں‘ سے طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا۔ذرائع کا کہنا ہے بھرپور فضائی طاقت کا استعمال اس کارروائی میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی فضائیہ کے ذریعے کیئے جانے والے اس ممکنہ فضائی آپریشن کی منصوبہ بندی گزشتہ چند روز کے دوران وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل راؤ قمر سلمان کے درمیان ملاقاتوں کے بعد مکمل کر لی گئی ہے۔
بی بی سی اردو سروس کو عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سوات اور ملحقہ علاقوں میں فضائی کارروائی کے لئے پشاور کے قریب بڈھ بیر، کوہاٹ اور کامرہ میں موجود پاک فضائیہ کے اڈے ’فارورڈ بیسز‘ کے طور پر استعمال ہوں گے جبکہ چکلالہ ائیربیس سپلائی لائن کے طور پر کام کرے گا۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل پاکستان کی ایئر بورن ڈویژن کے بعض کمانڈوز کو متاثرہ علاقے میں اتارنا طویل عرصے تک جاری رکھنے کے لئے بنائے گئے پاک فضائیہ کے اس منصوبے کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تاہم ان ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیاروں کے ذریعے بمباری کا سلسلہ شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔
اس آپریشن میں ممکنہ طور پر استعمال ہونے والے طیارے، ہیلی کاپٹر اور دیگر سازو سامان ان فضائی اڈوں پر پہنچا دیئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر فضائیہ کا سازوسامان کی ترسیل کی مثال ماضی کے فضائیہ کے آپریشنز میں نہیں ملتی۔

پاکستان ائیر فورس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جس بڑے پیمانے پر اس فضائی کارروائی کی ہدایات ملی ہیں اور ان کی بنیاد پر جو تیاریاں کی جا رہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہو گا کہ پاکستان ائیرفورس ایک بڑا فضائی آپریشن کرنے جا رہی ہے۔
کراچی میں قائم جنگی تعلیم و تربیت کے ادارے ائیر وار کالج میں استاد ریٹائرڈ ائیر کموڈور جمال حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ جدید جنگ میں زمینی فوج کا استعمال محدود ہوتا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اگر زمینی فوج کسی دشمن ہدف تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کی واضح نشاندہی ہو جاتی ہے تو انہیں اس پر زمینی حملہ کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ وہ فضائیہ حملے کی راہنمائی کریں اس طرح کم وقت میں بغیر جانی نقصان برداشت کئے دشمن کا صفایا کیا جا سکتا ہے۔‘
ائیر کموڈور جمال حسین نے بتایا کہ اب تو پاکستان ائیر فورس کے پاس لیزر گائیڈڈ بم موجود ہیں جن کی نشانہ لگانے کی صلاحیت بہت زبردست ہے۔ ان بموں کو صرف زمین سے ہدف کی نشاندہی کی ضرورت ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کے باوجود ابھی تک بڑی تعداد میں عام لوگ ان علاقوں میں موجود ہیں جو اس فضائی آپریشن کو بڑے پیمانے پر شروع کرنے میں رکاوٹ ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعض علاقوں میں فوجی کامیابی کو تو بعض دفاعی مبصر فضائیہ کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔
لیکن قبائلی علاقوں میں ہونے والے فضائی آپریشن اور سوات میں ممکنہ کارروائی میں جو بنیادی فرق ہے وہ آبادی کے تناسب کا ہے۔ قبائلی علاقوں میں آبادی کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے جسکے باعث شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی نسبتاً آسان ثابت ہوئی تھی۔ سوات میں گنجان آبادی کے باعث شدت پسندوں کو چن چن کر فضا سے نشانہ بنانا ممکن نہیں ہو گا۔ اسی بنا پر بڑے بموں کے ذریعے بمباری کا منصوبہ بنایا گیا ہے لیکن اس پر عمل آبادی کے انخلا کے بعد ہی ممکن ہو گا۔
پاک فضائیہ کے ایک ترجمان نے سوات آپریشن میں فضائیہ کے ممکنہ کردار کے بارے میں تفصیلات بتانے سے معذرت کی ہے۔






















