’فوجی آپریشن ایک غلط آپشن ہے‘

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور میں مختلف مکتبہ فکر اور مسالک کی دینی جماعتوں کی ایک قومی کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن، فاٹا اور بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے اور امن کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔
علماء اکرام نے کالعدم تحریک نفاذ شریعت کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے عجیب فتووں کی وجہ سے سوات کے عوام کو یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔
لاہور کے ایک ہوٹل میں ہونے والی اس قومی کانفرنس میں جماعت اسلامی، جے یو آئی، جے یو پی، جمعیت اہلحدیث، تنظیم المدارس اور مرکزی جماعت اہل سنت سمیت تیرہ بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔
حکومت کے اتحادی جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے سوات معاہدے کو ناقص قرار دیا اور کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے امن کی خاطر اس معاہدے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا سوات میں نظام عدل کو کام کرنے کی مہلت دیے بغیر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت کے دوران فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دی گئی اور اب بھی پیپلز پارٹی نے ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ حکومت کی رٹ چیلنج کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا ضروری تھا لیکن کیا امریکہ کے ڈرون حملے پاکستان حکومت کی رٹ کو چیلنج نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عالمی قوتیں پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرتی چلی آرہی ہیں جس کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ کو نہیں مانتے کیونکہ آج تک کوئی عالمی ادارہ دہشت گردی کی تعریف ہی متعین نہیں کرسکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پہلے شیعہ سنی فساد پھیلانے کی کوشش کی گئی اور پھر سوات میں مزاروں کو نقصان پہنچا کر وہابی، دیوبندی اور بریلوی تفریق کی فضا پیدا کر کے کچھ قوتیں اس کا استعمال کرنے کے لیے متحرک ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے تحت آئین پاکستان میں ترمیم کر کے اسلامی نظام نافذ کر دیا جائے تو ملک میں امن ہو جائے گا۔
سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ یہ سارا کھیل امریکہ کے کہنے پر رچایا گیا ہے اور غیر متناسب طاقت کے استعمال سے ایک انسانی المیہ وجود میں آچکا ہے۔
انہوں نے کہا بھارت اور امریکہ کی ایک سازش کے تحت سرحد کو الگ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوتیں پنجاب کو سب سے الگ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا صوفی محمد کا جمہوریت کو کفر قرار دینا آمریت کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ قومی کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ مالاکنڈ میں فوجی آپریشن ایک غلط آپشن ہے۔ تقریب کے میزبان جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا ابوالخیر زبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مشترکہ اعلامیہ میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دینی جماعتیں پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گی لیکن بندوق اٹھانے والوں کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابوالخیر زبیر نے کہا کہ صوفی محمد کی بے تکی باتوں، نرالے ارشادات اور عجیب فتوؤں نے حالات کو بگاڑا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں مزاروں، خانقاہوں، دینی مدارس، مساجد اور امام بارگاہوں کی بے حرمتی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
قومی کانفرنس میں شریک بیشتر دینی جماعتوں کے سربراہوں نے ایک نئے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا لیکن جے یو آئی کے رہنما مولانا امجد نے کہا کہ کسی نئے اتحاد کی بجائے متحدہ مجلس عمل کو بحال کیا جانا چاہیے۔
اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے والے عناصر کو جان بوجھ کر چھپایا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے۔






















