’سزا اور معافی میں فرق ہے‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں ملنے والی سزا کے خلاف نظرثانی کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل جج جسٹس ناصرالملک نے کہا ہے کہ سزا کی معافی اور اس کی معطلی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
یہ ریمارکس انہوں نے جمعرات کے روز نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔ میاں نواز شریف کے وکیل عابد حسن منٹو نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آئین کی دفعہ پینتالیس کے تحت صدر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی شخص کی سزا کو معاف کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں معافی کا ذکر ہے جُرم کا ذکر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے اُن کے مؤکل کو نااہل قرار دینے کے ضمن میں اپنے فیصلوں میں انسداد دہشت گردی اور احتساب عدالت کے فیصلوں کا حوالہ دیا ہے وہ تمام سزائیں صدر کی جانب سے معاف ہوچکی ہیں۔
عابد حسن منٹو نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے خرم شاہ اور نور الٰہی کی درخواستوں پر دوسرے فریق کو سُنے بغیر ہی میاں نواز شریف کو ناہل قرار دے دیا۔ حالانکہ اس سے پہلے آئین کے تقاضوں کو پرکھنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان درخواستوں کو میرٹ پر سن لیا جاتا تو پھر ایسا فیصلہ نہ آتا۔
انہوں نے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنی مرضی سے اہلیت کے متعلق آئین میں ترامیم کیں۔
عدالت نے متعلقہ حکام سے میاں نواز شریف کی اہلیت کے متعلق الیکشن ٹریبونل کی تشکیل کا نوٹیفکیشن اور میاں نواز شریف کی طرف سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے داخل کروائے جانے والے کاغذات کی مصدقہ نقول عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل جب کسی درخواست کا فیصلہ نہ کرسکے تو پھر چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ اس پر بینچ میں شامل جج جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ عدالت کسی بھی نااہل شخص کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک سکتی ہے۔ عدالت نے نظر ثانی کی درخواست کی سماعت جمعہ کے روز تک ملتوی کردی۔


















