مہمند: کمانڈر سمیت تین جنگجو ہلاک

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں عسکریت پسندوں کی گاڑی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس میں کمانڈر سمیت تین عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں ایک بارودی سرنگ دھماکے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی تین بم دھماکوں میں نو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
مہمند ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو صدر مقام غلنئی سے کوئی چالیس کلومیٹر دور تحصیل ادئیزئی میں عسکریت پسندوں کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں مقامی طالبان کمانڈر عبدل خان سمیت تین عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں گزشتہ رات سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری بھی کی ہے جس میں طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں عسکریت پسندوں کی ایک گاڑی مکمل طوپر تباہ ہوگئی ہے۔
دوسری طرف شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز میرانشاہ سے بنوں جانے والے قافلے میں شامل ایک گاڑی تحصیل میرعلی کے علاقے نوراک میں ایک باردوی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے میں ایک گاڑی مکمل طوپر تباہ جبکہ دو گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی انتظامیہ کےمطابق اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے دو گھنٹوں تک میرانشاہ میرعلی سڑک کو بند کردیا تھا۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ گان اور زخمیوں کو بنوں منتقل کردیا ہے۔
دریں اثناء صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے مطابق پولیس چوکیوں پر یکے بعد دیگرے تین بم حملوں میں نو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات دس بجے کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے توپ نوالہ گیٹ میں واقع ریسکیو پندرہ کے دفتر پر دستی بم پھینکا جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ جبکہ اس کے پانچ منٹ بعد ٹانک اڈہ میں پولیس چوکی پر اسی نوعیت کا دستی بم سے حملہ کیاگیا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح مسلم بازار میں واقع چوکی پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بم پھینکا جس میں مزید تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ تمام واقعات میں ملوث افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔






















