سوات: کرفیو میں نرمی، نقل مکانی شروع

جنرل کیانی نے وادی سوات میں تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات کی
،تصویر کا کیپشنجنرل کیانی نے وادی سوات میں تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات کی
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ، دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستانی فوج کی جانب سے وادی سوات میں کرفیو میں آٹھ گھنٹے کی نرمی میں وہاں سے ہزاروں افراد نے ذاتی اور سرکاری گاڑیوں میں محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کی دی ہے۔

واضح رہے کہ فوج اور مالاکنڈ ڈویژن انتظامیہ نے بسوں کا انتظام کیا ہے جو لنڈا کئی چیک پوسٹ پر کھڑی ہیں جہاں سے ان لوگوں کو ان بسوں پر سوار کرا کے محفوظ مقامات تک لے جایا گیا۔

مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر فضل کریم خٹک نے کہا ہے کہ سوات کے صدر مقام مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں سے کرفیو میں نرمی کے بعد نقل مکانی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن اور جھڑپوں کی وجہ سے ان علاقوں میں ہزاروں افراد پھنسے ہوئے تھے۔اب انہیں سرکاری گاڑیوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

فضل کریم خٹک نے جمعہ کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں فوجی کارروائی کی وجہ سے مینگورہ شہر اور آس پاس کے علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے حکومت کی طرف سے اسی گاڑیوں کا قافلہ مینگورہ پہنچا گیا ہے اور پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرفیو میں نرمی کا وقت مقرر نہیں کیا ہے تاکہ تمام لوگوں کو علاقے سے نکالا جاسکے۔

مردان کے شیر گڑھ کیمپ سے ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نےبتایا ہے کہ سوات سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ذاتی گاڑیوں اور سرکاری گاڑیوں میں مردان کی طرف آ رہے ہیں۔

سوات سے نقل مکانی کرنے والے افتخار نامی شخص نے بتایا کہ ہزاروں کی تعداد میں بچے، خواتین اور مرد پیدل وادی سے باہر نکل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مینگورہ کے اندر ٹرانسپورٹ موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے مینگورہ شہر سے تقریباً چار کلومیٹر دور لنڈا کئی چیک پوسٹ کی تک پہنچنے کے لیے لوگ پیدل سفر کر رہے ہیں ۔

واضع رہے کہ جمعہ کے روز فوج نے شہریوں کو سوات سے نکالنے کے لیے کرفیو میں صبح چھ بجے سے دوپہر دو بجے تک نرمی کی ہے۔

افتخار نے بتایا کہ سوات میں جاری آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں سے عام آبادی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق راستے میں مختلف مقامات پر عام شہریوں کی لاشیں بھی دیکھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مینگورہ میں ضروریات زندگی کی اشیاء دستیاب نہیں ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اب بھی ہزاروں لوگ مینگورہ اور اس کے مضافات میں پھنسے ہوئے ہیں۔

کمشنر مالاکنڈ فضل کری خٹک کا کہنا تھا کہ کرفیوں میں نرمی کے بعد بعض لوگوں نے پیدل اور کچھ لوگ ذاتی گاڑیوں میں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیدو شریف میں بیس ہزار لوگ علاقے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کچھ دوسرے علاقوں میں بھی لوگ موجود ہیں جو اپنے علاقے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

کمشنر مالاکنڈ کا کہنا تھا کہ مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی خدشے کے پیش نظر وہاں تاحال حکومت نے یہ سروے نہیں کیا ہے کہ ان علاقوں میں مزید کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے سربراہ ارشد خان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ عام لوگوں کو وادی سے نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔نیوز ایجنسی کے مطابق فوجی حکام کے اندازے کے مطابق گزشتہ اتوار کو کرفیو میں نرمی کے دوران مینگورہ سے ایک لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی تھی جبکہ دو لاکھ شہری ابھی تک وہاں موجود ہیں ۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائی کے آغاز کے ایک ہفتے کے بعد بھی فوجی حکام پیش قدمی جبکہ طالبان بھرپور مزاحمت کے دعوے کر رہے ہیں۔

دوسری طرف سوات میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم علاقے میں موبائل اور ٹیلی فون سروس معطل ہونے کی وجہ سے آزاد ذرائع سے اطلاعات ملنے میں مشکلات پیش آرہی ہے۔

کمشنر مالاکنڈ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات سے جاری کارروائی میں سوات کے مختلف علاقوں میں ایک سو سے زیادہ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ لیکن کمشنر کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

انہوں نےدعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نےگزشتہ رات سوات کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کی ہے جس میں ایک سو سے زیادہ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ انہوں دعویٰ کیا کہ مینگورہ شہر کے زیادہ تر علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کردیا ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ تصدیق کی کہ شہر کے بعض علاقوں میں طالبان موجود ہیں۔

یاد رہے سوات میں گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل کرفیو نافذ تھا جس کی وجہ سے لوگ بدستور گھروں کے اندر محصور تھے۔جبکہ بازار اور تجارتی مراکز بھی بند ہیں جس سے علاقے میں خوراکی مواد اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔