شمالی وزیرستان: مدرسے پر ڈرون حملہ

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ، دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے سے ایک مدرسے پر دو میزائل فائر کیے ہیں جس کے نتیجہ میں پچیس افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
حملے میں ایک گاڑی بھی تباہ ہوگئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سنیچر کو صبح آٹھ بجے تحصیل میر علی سے پچیس کلومیٹر دور جنوب کی جانب خیسور کے علاقے میں امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل داغے گئے ہیں ۔جس کے نتیجہ میں پچیس افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک میزائل حملے میں ایک گاڑی اور دوسرے میں مدرسے کو نشانہ بنایا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گاڑی بھی مدرسے کے قریب موجود تھی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت دو امریکی جاسوس طیارے فضاء میں موجود تھے جس کی وجہ سے پہلے سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گئی تھی۔مقامی لوگوں کے مطابق دھماکے کے بعد پورے گاؤں کے لوگ گھروں سے باہر آگئے اور دیکھا کہ مدرسے کے قریب سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے مدرسے جانے والے راستوں کو بند کیا ہے اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق میزائل حملے میں ایک گاڑی اور مدرسے کے دو کمرے مکمل طو رپر زمین بوس ہوگئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ میزائل حملے میں کوئی غیر ملکی ہلاک ہوا ہے یا نہیں البتہ ہلاک ہونے والے افراد طالبان بتائے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مقامی لوگ ہیں اور ان میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں ہے۔
دوسری طرف مقامی ذرائع نے ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کو بتایا ہے کہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہے جن میں اکیس مقامی طالبان اور چار غیر ملکی جنگجُو شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ان میں سے چار لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے جبکہ باقی لاشیں جھلس جانے کے باعث ناقابل شناخت ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے کچھ طالبان کا تعلق خیبر ایجنسی سے تھا جو طالبان کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے شمالی وزیرستان آئے تھے۔اجلاس کا مقصد سوات کی صورت حال اور افغانستان کے اندر آپریشن کے بارے میں حکمتِ عملی ترتیب دینا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان پر امریکی جاسوس طیاروں پر میزائل حملے ہوچکے ہیں۔ ان حملوں میں غیر ملکی مقامی طالبان اور پنجابی طالبان کے علاوہ عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔






















