مہاجرین: دکانداری چمک اٹھی

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
سوات، بونیر اور دیر میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں نقل مکانی کرنے والے افراد کو ایک طرف شدید مُشکلات کا سامنا ہے تو دوسری طرف ان متاثرین کے آنے سے مردان، صوابی اور تخت بھائی کے مقامی دکانداروں کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔
مردان میں ہوٹل کے مالک محمد اعجاز کا کہنا تھا کہ ان کے کاروبار میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے۔ پہلے ان کا سودہ روزانہ کے حساب سے پندرہ سو سے دو ہزار تک ہوتا تھا۔ متاثرین کے آنے کے بعد پانچ سے چھ ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کولڈ ڈرنک اور ریڑھی بانوں کے کاروبار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
تخت بھائی کے ایک دوکاندار ظہور خان نے بتایا کہ متاثرین کے آنے کے بعد گاہکوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان کا سودہ ایک ہزار سے پندرہ سو تک ہوتا تھا اب پانچ سے چھ ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ ظہور کے مطابق چائے، چینی، دال بسکٹ اور سبزی کے گاہکوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلیف کیمپوں میں ملنے والی اشیائے خورد ونوش سے متاثرین مطمئن نہیں ہیں اس لیے وہ زیادہ تر خریداری بازار سے کرتے ہیں۔
مردان میں ایک پندرہ سالہ دکاندار فخرعالم نے بتایا کہ ان کے کاروبار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ متاثرین کی وجہ سے ان کا کاروبار ایک ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار تک پہنچ گیا ہے جس پر وہ بہت خوش ہیں۔


















