سوئی: عالی بگٹی کی دستاربندی

میر عالی جنوری دو ہزار چھ میں اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے تھے
،تصویر کا کیپشنمیر عالی جنوری دو ہزار چھ میں اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے تھے
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے بڑے صاحبزادے سلیم اکبر بگٹی کے بڑے بیٹے نوابزادہ میر عالی عرف عدو بگٹی کی بطور بگٹی قبیلے کے نئے نواب کے دستار بندی منگل کو سوئی میں ہوگئی۔

ڈیرہ بگٹی کے شہر سوئی میں قبائلی معتبرین کی جانب سے ان کی دستار بندی کے انتظامات مکمل کیے گئے۔ چھتیس سالہ میر عالی بگٹی سترہ دسمبردو ہزار پانچ کوڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد جنوری دو ہزار چھ میں اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں چھبیس اگست دو ہزار چھ کو نواب محمد اکبر بگٹی ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد میر عالی بگٹی اور نواب اکبر بگٹی کے دوسرے پوتے براہمداغ بگٹی روپوش ہوگئے۔ تین سال کی خاموشی کے بعد میر عالی بگٹی کراچی میں منظر عام پر آئے اور تیس اپریل کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعے اپنے چھوٹے بھائی طلحہ بگٹی کے ہمراہ واپس آبائی علاقے سوئی آگئے جہاں نہ صرف ان کا شاندار استقبال ہوا بلکہ بگٹی قبیلے کے ایک جرگے نے انہیں بگٹی قبیلے کا نیا نواب منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔

بگٹی قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق قبیلے کی چھ شاخیں مسوری، کلپر، نوتانی، شعبانی ، پیروزانی اور مندرانی قبیلوں کے وڈیرے نئے نواب کی دستار بندی کرتے ہیں۔

میر عالی بگٹی نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اعلٰی تعلیم لندن سے حاصل کی ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے لندن میں خان آف قلات کے خاندان میں شادی کی ہے۔ وہ جمہوری وطن پارٹی (عالی ) گروپ کے صدر کے طور پر بھی گزشتہ دو سالوں سے بلوچستان کی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ نواب اکبر بگٹی کی سیاسی جماعت جمہوری وطن پارٹی ان کی ہلاکت کے بعد تقسیم در تقسیم کا شکار ہوئی جس میں ایک گروپ کی سربراہی نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ طلال بگٹی کررہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نوابی کا اصل حق ان کا ہے۔

اس سلسلے میں نواب اکبر بگٹی کے دوسرے پوتے براہمداغ بگٹی جو کہ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ بھی ہیں کے تاثرات لینے کی کوشش کی گئی تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔ البتہ ان کی جماعت بی آر پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر بشیر عظیم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’میر عالی بگٹی کے بطور نئے نواب کے ڈیرہ بگٹی میں حالات ٹھیک ہوں گے یا نہیں، یہ تو حکومت ِوقت ہی بتاسکتی ہے کیونکہ ہم تو صرف قومی آزادی کی بات کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر بشیر عظیم نے کہا ’عالی بگٹی کو جنہوں نے لایا ہے ان کو پتہ ہوگا کہ وہ وقت کی ضرورت ہیں یا نہیں۔ یہ حکومت اور عالی بگٹی کا مسئلہ ہے وہ جانیں اوران کا کام۔‘ تاہم ڈاکٹر بشیر عظیم کا کہنا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں جو لوگ فوجی آپریشن کے دوران ڈیرہ بگٹی سے بے گھر ہوگئے وہ موجودہ حالات میں بھی واپس ڈیرہ بگٹی جانے کے لئے تیار نہیں کیونکہ وہاں ابھی تک پولیس اور آرمی کی کارروائیاں جاری ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوگوں کی فصلیں جلائی جارہی ہیں اور ابھی تک لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں جب سوئی میں نوابزادہ میر عالی بگٹی کے ترجمان دریان بگٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ صرف اور صرف بگٹی قبیلے کا ہے لہٰذا بگٹی قبیلے کے معتبرین بہتر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کس کو نیا سردار یا نواب بنانا ہے۔

دریان بگٹی نے بتایا کہ دستار بندی میں بگٹی قبیلے کی روایات کے مطابق کسی اور قبیلے کے سرداروں اور نوابوں کو مدعو نہیں کیاگیا ہے۔ اس تقریب میں صرف بگٹی قبیلے کے وڈیرے شریک ہوں گے۔

یاد رہے کہ بگٹی قبیلے کے چھ شاخوں نے چوبیس اگست دو ہزار چھ کو ڈیرہ بگٹی میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ مزید سرداری اور نوابی نظام قبول نہیں کریں گے کیونکہ یہ علاقے اور بلوچستان کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب ڈیرہ بگٹی کے ڈی سی او غلام اکبر لاسی تھے۔ اس فیصلے کے دو دن بعد یعنی چھبیس اگست کو نواب اکبر بگٹی ڈیرہ بگٹی کے تراتانی کے علاقے میں ہلاک ہوئے تھے۔